بندروں اور انسانوں کی سوچ میں مطابقت، اب بندر بھی گرامر سیکھ سکتے ہیں | سائنس اور ماحول | DW | 16.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

بندروں اور انسانوں کی سوچ میں مطابقت، اب بندر بھی گرامر سیکھ سکتے ہیں

ایک نئی ریسرچ کے مطابق بندر بھی گرامر سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ بندر زبان بھی سیکھ سکتے ہیں۔

انسان اور بندر بظاہر ایک جیسی زبان نہیں بولتے لیکن ان کی سوچ کا انداز تقریباً ایک جیسا ہے۔ ماضی میں ایسا خیال کیا جاتا تھا کہ بندر اور انسان کی سوچ ایک طرح نہیں ہے۔ ان کی سوچ کا ایک جیسا ہونے کا جس نئی ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا ہے، اسے امریکا کی تین اہم یونیورسٹیوں کے محققین نے مرتب کیا ہے۔ اس ریسرچ میں تین بین الاقوامی جامعات یعنی کیلیفورنیا یونیورسٹی برکلے، ہارورڈ یونیورسٹی اور کارنیگی میلن یونیورسٹی شامل تھیں۔ اس ریسرچ کو نفسیات، لسانیات اور حیاتیات کے شعبوں کے ماہر محققین نے مشترکہ طور پر مرتب کیا۔

تحقیق کے مطابق انسان اور بندر دونوں ہی قربت اور لگاؤ کو پسند کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مکاک بندر، بولیویا کے ایمیزون جنگلات کے چند مقامی باشندے اور امریکی پری اسکولوں کے کچھ بچے ایک آزمائش میں شریک ہوئے۔ اس ٹیسٹ میں الفاظ کی ترتیب، جملے یا نشانات اور بعض گرامر کے حامل احکامات کا استعمال کیا گیا۔ بظاہر یہ ایک مہمل طریقہٴکار تھا لیکن نتیجہ انجام کار مثبت رہا۔

لسانیات میں قربت کے اظہار کے لیے الفاظ کی ترتیب اور استعمال ہونے والے لفظوں کے معنی کی سمجھ کے علاوہ ان کا آپس میں ربط بہت حد تک بنیادی خیال کیا جاتا ہے۔ ان کے بار بار اظہار کا مقصد دوسرے کو پوری طرح سمجھانا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: تیرہ بندر ایک ساتھ کیسے ڈوبے؟

ریسرچرز کے مطابق اظہار کے لیے یہ ایک مشکل اور قدرے پیچیدہ طریقہ تھا اور امکاناً مکاک بندر کے لیے اس کی سمجھ اور اظہار مشکل ہوگی۔ اس ٹیسٹ میں تمام شرکا کو ان الفاظ اور نمونوں کو پوری طرح ازبر کرایا گیا۔

امریکی اسکولوں کے طلبا اور مکاک بندر کو ٹچ اسکرین کے ساتھ یہ ٹیسٹ سمجھنے کی سہولت مہیا کی گئی۔ درست جواب پر ایک گھنٹی بجتی جبکہ غلط جواب کی صورت میں بزر استعمال کی جاتی۔ درست جواب دینے پر مکاک بندروں کو انعام کے طور پر جوس اور اسینکس دیے جاتے تھے۔

اسی ٹیسٹ کے اگلے مرحلے میں امیجز کو درست انداز میں مرتب کرنا تھا۔ ایک اور بات بھی ریسرچرز کو معلوم ہوئی کہ بولیویا کے مقامی باشندے، امریکی پری اسکولز بچے اور مکاک بندروں کو حساب اور پڑھنے میں کسی حد تک مشکل کا سامنا رہا۔

مزید پڑھیے: بھارت ميں بندر کورونا وائرس کے نمونے لے کر فرار

اس ٹیسٹ نے ریسرچرز کو حیران کر دیا کہ بندروں کی مجموعی پرفارمنس حیران کن تھی۔ جن بندروں کی پرفارمنس بہتر تھی۔ ان کو تربیت بھی زیادہ فراہم کی گئی تھی۔ ریسرچ سے واضح ہوا کہ بندر بھی انسانی گرامر کے اشکال سے ظاہر کیے گئے نمونے پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آزمائشی عمل میں بندروں نے مناسب انداز میں زبان یا لینگوئج کی تشریح درست انداز میں کی۔ اس طرح گرامر کے اسٹرکچر بھی سمجھنے میں کامیاب رہے۔ بندر الفاظ کے جو پیٹرن یا انداز سمجھ پائے وہ کچھ اس طرح AB/BA یا ANC/CBA جیسے تھے۔ اس کے علاوہ ٹچ اسکرین پر بھی بندر متحرک شے کے ساتھ انگلی پھیرنے میں کامیاب رہے۔ ایک بات واضح رہی کہ مکاک بندر غلطی پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کر سکے۔

انکرسٹین ہیربے (ع ح، ع آ)

DW.COM