بم نہیں ’کلاک‘ تھا، مسلمان طالبعلم نے مقدمہ دائر کر دیا | معاشرہ | DW | 24.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بم نہیں ’کلاک‘ تھا، مسلمان طالبعلم نے مقدمہ دائر کر دیا

امریکا میں بم بنانے کے شبے میں گرفتار کیے جانے والے مسلم نوجوان محمد احمد نے اپنے اسکول اور ارونگ شہر کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی ہے۔ احمد کے ایجاد کردہ ’کلاک‘ کو بم سمجھ کر اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

محمد احمد کی وکیل کیلی ہولنگسورتھ نے بتایا ہے کہ ان کے مؤکل نے پندرہ ملین ڈالر ہرجانے کا دعوٰی کر دیا ہے۔ چودہ سالہ احمد اس وقت راتوں رات ایک معروف شخصیت بن گئے تھے، جب رواں برس جولائی میں ان کی بہن نے ان کی ہتھکڑیوں کے ساتھ ایک تصویر سماجی ویب سائٹ پر جاری کی تھی۔

Barack Obama USA Weißes Haus Washington astronomische Nacht

صدر باراک اوباما نے بھی احمد کو وائٹ ہاؤس میں آنے کی دعوت دی تھی

کیلی ہولنگسورتھ کے مطابق محمد احمد کی شہرت کا ایک سیاہ پہلو بھی ہے، جو ان کے لیے نفسیاتی مسائل کا سبب بن رہا ہے:’’احمد کو واضح طور پر اس کے رنگ، خاندانی پس منظر اور مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ‘‘۔ ہولنگسورتھ نے ایک خط کے ذریعے اپنے مطالبات سے شہری اور اسکول انتظامیہ کو آگاہ کر دیا ہے۔ احمد کے والدین کا تعلق سوڈان سے ہے اور وہ ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس کے ایک نواحی علاقے ارونگ میں رہائش پذیر تھے۔

احمد اپنا تیار کردہ ’کلاک‘ اساتذہ کو دکھانے کے لیے اسکول لے گیا تھا۔ اسکول انتظامیہ نے اس خود ساختہ گھڑی کو بم سمجھ کر پولیس کو مطلع کر دیا اور احمد کو گرفتار کر لیا گیا۔ وکیل کے مطابق احمد کی غلط الزام میں گرفتاری اور حراست کی صورت میں اسکول اور پولیس نے اس کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور جب ذرائع ابلاغ کو اس خبر کی اطلاع ملی تو اس طالب علم کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس دوران انہوں نے ارونگ کے میئر بیتھ فان ڈونے کی جانب سے گلین بیک کے ایک ٹی وی شو میں اس گھڑی کو ایک ’جعلی بم‘ قرار دینے کا بھی ذکر کیا۔ اس موقع پر جب اس شو میں موجود دیگر مہمانوں نے اس واقعے کو مغربی تہذیب کے خلاف جہاد کو روکنے کے لیے کی جانے والی اہم کارروائی قرار دیا تو اس پر بھی میئر نے اثبات میں سر ہلایا۔ وکیل کے بقول ’’یہ صرف احمد کے خاندان والوں کے لیے ہی خطرناک نہیں تھا بلکہ اس طرح ان کے امریکا میں محفوظ زندگی گزارنے کے امکانات بھی محدود ہو گئے تھے اور ساتھ ہی یہ ہتک عزت کا بھی معاملہ ہے۔‘‘

Sudan Ahmed Mohamed mit Omar al-Bashir in Khartum

احمد کے والدین کا تعلق سوڈان سے ہے

اس واقعے کے بعد جب احمد کے گھر کا پتہ عام ہوا تو اس کے خاندان والوں کو دھمکی آمیز خطوط اور ای میلز بھی موصول ہوئیں۔ تاہم دوحہ حکومت کی جانب سے ایک متاثر کن وظیفہ ملنے کے بعد سے یہ خاندان قطر منتقل ہو چکا ہے۔

وکیل ہولنگسورتھ نے بتایا کہ اس سلسلے میں اسکول انتظامیہ سے پانچ ملین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ دس ملین ڈالر کے لیے ارونگ کی شہری حکومت سے رابط کیا گیا ہے۔ ان کے بقول اگر ساٹھ دنوں کے دوران کوئی جواب نہ ملا تو پھر عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔