بلوچستان یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کا اسکینڈل | معاشرہ | DW | 15.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

بلوچستان یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کا اسکینڈل

پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں صوبے کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا ایک بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے شعبہ 'سرویلینس اور سیکیورٹی برانچ‘ کے بعض اہلکار یونیورسٹی کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے یونیورسٹی کے مختلف شعبوں پر چھاپے بھی مارے ہیں۔ ان چھاپوں کے دوران بڑے پیمانے پر طالبات کی ویڈیوز برآمد کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے اس بڑے اسکینڈل کے حوالے سے یونیورسٹی کے سکیورٹی برانچ کے دو سینیئر اہلکاروں سمیت درجنوں دیگر افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

چائلڈ سیکس اسکینڈل، جرمن عدالت کا پہلا فیصلہ

ایف آئی اے کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں ایک منظم منصوبے کے تحت طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ''بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل نے بعض شکایات پر از خود نوٹیس لیا ہے۔ چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو اس حوالے سے تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ ہماری سائبر ونگ نے اس حوالے سے کارروائی کی ہے۔ یہ یقینا ایک بہت بڑا اسکینڈل ہے۔ اس حوالے سے اب تک جو تحقیقات ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوا ہے کہ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر طلبا اور خاص کر طالبات کو سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا رہا ہے۔‘‘

ایف آئی اے اہلکار نے بتایا کہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں چھاپوں کے دوران مختلف موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز کو قبضے میں لیا گیا ہے، جن کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جارہا ہے۔

Pakistan Balochistan Universität Aussen (DW/A. G. Kakar)

سی سی ٹی وی فوٹیج یونیورسٹی کی طالبات کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا، ''یونیورسٹی میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہوتا رہا ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یونیورسٹی میں سرویلینس کے نام پر قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں۔ ہماری ٹیم بہت گہرائی کے ساتھ اس تمام تر معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔ جو بھی اس اسکینڈل میں ملوث ہوگا، وہ چاہے جتنا بھی بااثر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔‘‘

پاکستان میں یونیورسٹی اساتذہ کی نمائندہ تنظیم 'اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن‘ کے جنرل سیکریٹری اور جامعہ بلوچستان کے سینیئر پروفیسر کلیم اللہ بڑیچ کے بقول یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے کے عمل میں انتظامی شعبے کی غفلت کا بھی اہم کردار ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ''ہم نے از خود کئی بار متعقلہ ‌ذمہ داروں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ یہاں ان امور کی تحیققات کی جائیں جن سے طلبا وطالبات متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند عمل ہے کہ اب وفاقی تحیقیقاتی ادارہ اس حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے ۔ بلوچستان یونیورسٹی میں بعض لوگوں کی وجہ سے طلبا کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بااثر افراد کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جائے، جو کہ اپنے اختیارات کا ہمیشہ غلط استمعال کرتے رہے ہیں۔‘‘

چین: کم عمر کے ساتھ سیکس ’’ریپ‘‘

پروفیسر کلیم اللہ بڑیچ نے بتایا کہ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر کے خلاف گورنر بلوچستان کو بھی شکایات درج کرائی ہیں تاکہ یونیورسٹی کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا، ''ہماری معلومات کے مطابق جنسی طور پر طالبات کو ہراساں کرنے کے اس اسکینڈل میں ملوث کئی عناصر اب بھی اثر و رسوخ کی وجہ سے قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی کے وی سی سمیت تمام دیگر ذمہ داران کو اس ضمن میں غیر جانبدار طور پر شامل تفتیش کیا جائے۔‘‘

کوئٹہ میں تعینات ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار مبین درانی کے بقول بلوچستان یونیورسٹی کے ماحول پراثرانداز ہونے کے لیے جو سازش کی جا رہی ہے وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے درانی نے کہا، ''بلوچستان یونیورسٹی میں پچاس سے زائد کلوز سرکٹ کیمرے نصب ہیں۔ ان کیمروں کی فوٹیج بھی حالیہ اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد حاصل کی جا رہی ہے۔ اس فوٹیج سے حقیقی صورت حال مزید واضح ہو جائے گی۔ جو لوگ یونیورسٹی کے ماحول کو خراب کرنے میں ملوث ہیں انہیں قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اس وقت صرف انتظار کچھ ایسے شواہد کا ہے جو کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالے سے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ چند دنوں تک تمام صورت حال واضح ہو جائے گی۔‘‘

پاکستان میں ویڈیو اور آڈیو لیکس کی تاریخ

مبین درانی کا کہنا تھا کہ جامعہ بلوچستان میں طالب علموں کو ہراساں کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایاجائے۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت نے یونیورسٹی اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے آئی جی پولیس کو ایف آئی اے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا، ''طالب علموں کو یونیورسٹی میں ہراساں کرنا ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ اس میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی بنائی جارہی ہے۔ انکوائری کمیٹی کو جلد از جلد رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت کی جائے گی تاکہ ذمہ داران کے خلاف بھرپور کارروائی کی جاسکے۔‘‘

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو اسکینڈل کی تحقیقات کو مزید وسعت دینے کی ہدایت کی ہے۔  وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے ایک بیان میں صوبے کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے میں طلبا و طالبات کو بلیک میل اور ہراساں کرنے کے واقعات پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:41

جنيوا میں انسانی حقوق کے اشتہارات کی لڑائی

DW.COM

Audios and videos on the topic