بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال | پانی کہانی | DW | 22.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

پانی کہانی

بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے بگڑتی ہوئی صورتحال

گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات کے باعث بلوچستان کا تقریبا 70 فیصد حصہ شدید متاثر ہوا ہے۔ اس وجہ سے صوبے کے باسیوں کی زندگیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

یہ 9 جون 2021ء کا ایک غیر معمولی گرم دن تھا۔ کوئٹہ میں شدید گرمی اور حبس کے ساتھ لوڈشیدنگ نے دوپہر میں چند گھنٹے سونا بھی دوبھر کیا ہوا تھا۔ وقت گزاری کے لیے  گوگل پر سکورلنگ شروع کی تھی کہ نظر ایک چیختی خبر پر ٹکی رہ  گئی۔ خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق 9 جون کو بلوچستان کے دو شہروں نوکنڈی اور دالبندین دنیا بھر کے گرم ترین شہروں کی فہرست میں صفِ اول پر تھے۔ 15 گرم ترین شہروں کی اس فہرست میں پاکستان کے مزید تین شہر پشاور، جیکب آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل تھے۔

ایکو سسٹم میں تبدیلی

جولائی، اگست کے مہینوں میں معتدل موسم کے لیے مشہور کوئٹہ اور زیارت کا درجۂ حرارت بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑتا نظر آیا۔ اس حوالے سے انٹرنیشنل یونین فار  کنزرویشن آف نیچر کے ریجنل کو ارڈینیٹر  نصیب اللہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ  کوئٹہ کا درجۂ حرارت اب 45 سینٹی گریڈ ڈگری سے زیادہ ہونے لگا ہے، جو پچھلی چھ دہائیوں میں کبھی ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا،''بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں سے خطے کا صدیوں پرانا ایکو سسٹم تبدیل ہو رہا ہے جس کے اثرات نمایاں ہیں۔‘‘ ان کے بقول موسم سرما سکڑ  کر محض تین ماہ کا ہو گیا ہے، جس میں شاذو نادر ہی بارش و برفباری ہوتی ہےجبکہ موسم گرما طویل اور شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

بلوچستان ارضیاتی ساخت کے حوالے سے منفرد ہے۔ یہاں سنگلاخ پہاڑ  اور ریتیلے میدانوں کے ساتھ ایک طویل ساحلی پٹی بھی ہے۔ یوں بلوچستان کا ایکو سسٹم منفرد خصوصیات کا حامل رہا ہے مگر اس وجہ سے یہاں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز بھی پیچیدہ ہیں۔

نصیب اللہ  بتاتے ہیں،''جنوری 2020 ء کی ریکارڈ بارشوں اور برفباری کے بعد صوبے میں 60 فیصد کم بارشیں ہوئی ہیں، جس کے باعث بلوچستان کے 33 میں سے 22 اضلاع شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں اور تقریبا 10900 خاندانوں کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ یہاں زیادہ تر افراد کا ذریعۂ روزگار زراعت اور گلابانی ہے اور دونوں پیشوں پر پانی کے شدید بحران نے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔‘‘ 

ویڈیو دیکھیے 02:16

لاہور کا میاواکی اربن فاریسٹ ایک اچھا آغاز

موسمیاتی تبدیلیوں سے بلوچستان کے باسی کتنا متاثر ہوئے ہیں ؟

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں  کی اہم وجہ زیارت میں جونیپر کے جنگلات کی کٹائی اور موسم سرما میں غیر معیاری ایندھن کا استعمال ہے۔ فضا میں بڑھتی ہوئی کاربن  کی مقدار سے پورے خطے میں بارشوں کا پیٹرن تبدیل ہو گیا ہے۔

 زیارت کے ایک رہائشی کلیم خان کوئٹہ کے مقامی کالج میں لیکچرر ہیں۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا  کہ کسی دور میں ان کا علاقہ سیب کی پیداوار کے لیے مشہور تھا مگر اب موسمیاتی تبدیلیوں سے پھلوں اور دیگر فصلوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،''درجۂ حرارت میں اضافے سے پھل وقت سے پہلے پک جاتے ہیں اور مارکیٹ تک پہنچتے تک زیادہ تر پھل سڑ کر خراب ہو جاتے ہیں۔‘‘

کلیم خان کے مطابق بارشوں اور برفباری کی کمی کے باعث زیارت میں زیر زمین پانی کی سطح گر کر 700 فٹ تک پہنچ گئی ہے،''اتنی گہرائی سے پانی نکالنا انتہائی دشوار ہے کیونکہ زیادہ تر علاقوں میں صرف پندرہ دن بجلی دستیاب ہے، جس کا وولٹیج انتہائی کم ہوتا ہے۔کوئٹہ اور زیارت میں لوگ گہرائی سے پانی نکالنے کے لیے بورنگ کا طریقہ استعمال کرتے ہیں، جس سے زرخیز زمین بنجرر ہو رہی ہے۔‘‘ 

پانی کی کمی سے پھلوں کی فروخت سے ہونے والی آمدنی بھی کم ہو گئی ہے، جو زمیندار پہلے دس لاکھ کماتے تھے اب وہ بمشکل پانچ لاکھ کما پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پہاڑوں پر خود رو گھاس اور سبزہ پانی کی کمی اور شدید گرمی کی وجہ سے ناپید ہوتا جا رہا ہے، جس سے گلہ بانی پر بھی منفی اثرات پڑے ہیں۔ کلیم بتاتے ہیں کہ زیارت اور گرد ونواح سے لوگ بڑے پیمانے پر روزگار کی تلاش میں کوئٹہ منتقل ہو رہے ہیں۔

2007 میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق  1997 سے 2002 تک شدید خشک سالی کے دوران بلوچستان میں کانگو وائرس، قحط، ٹی بی، ملیریا اور ہیپاٹائیٹس جیسے امراض سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے، جس میں کثیر تعداد شیر خوار اور کم عمر بچوں کی تھی۔

قدرتی آفات کی بڑھتی شرح اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا فقدان

مرکزی اور صوبائی حکومت بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک سالی کے خطرے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لیے کافی اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعظم کے خصوصی مشیر ملک امین اسلم نے چند ماہ قبل بلوچستان میں 100 ملین درخت لگانے اور پانی کے ذخیرے کے لیے نئے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں کا اعادہ کیا تھا۔ مقامی افراد بھی تربت، زیارت اور زہری میں اپنی مدد آپ کے تحت شجر کاری کی مہمات چلا رہے ہیں، مگر صورتحال اس سے زیادہ اقدامات کی متقاضی ہے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے قدرتی آفات کے ایکسپرٹ عرفان بیگ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو قطعا اندازہ نہیں ہے کہ کلائی میٹ چینجز سے مقامی افراد کی روزگار اور زندگی کس حد تک متاثر ہو سکتی ہے،''موسمیاتی تبدیلیوں سے بلوچستان کا ہر ضلع کسی نہ کسی سنجیدہ مسئلے کا شکار ہے۔ بڑے رقبے اور   دور دراز کے علاقوں میں آبادی ہونے کی وجہ سے کسی چھوٹے خطرے کو ڈیزاسٹر میں بدلتے دیر نہیں لگتی اور پورے صوبے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی شدید کمی ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق خشک سالی کے بڑھنے سے خوراک کی پیداوار اور ترسیل براہ راست متاثر ہوتی ہے اور قحط کی صورت میں لوگ دوسرے علاقوں میں ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بلوچستان میں خشک سالی  کا دور ہر پانچ سال بعد لوٹ کر آتا ہے، مگر بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جاتے۔

 عرفان بیگ کہتے ہیں کہ فی الوقت دیگر اقدامات کے علاوہ صوبے کو ریموٹ سینسنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک مکمل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کی ضرورت ہے، جس میں خشک سالی، خوراک کی پیداوار اور پانی کی  گرتی سطح کو روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ کر کے ایک مکمل سٹرٹیجی بنائی جائے تاکہ تمام مسائل کے دور رس حل نکالے جا سکیں۔