بریگزٹ کمپرومائز: فرانس نے پہل کر دی | حالات حاضرہ | DW | 23.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بریگزٹ کمپرومائز: فرانس نے پہل کر دی

برطانیہ پہلے ہی یورپی یونین سے اخراج کر چکا ہے۔ اس کے باوجود کئی اہم تجارتی امور کو طے کرنا باقی ہے اور اس کے لیے وقت اکتیس دسمبر تک کا ہے۔

یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان سالانہ تجارت کا معاہدہ ابھی ہونا باقی ہے۔ فریقین اگر اِسے رواں برس اکتیس دسمبر تک طے نہیں کرتے تو نو سو بلین یورو کا ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اس ڈیل پر اتفاق رائے اور دستخط ہونے پر برطانیہ یکم جنوری سن 2021 کو یورپی یونین کی مشترکہ منڈی (سنگل مارکیٹ) سے بھی اپنی مرضی سے باہر ہو جائے گا۔

برطانیہ میں خطرناک غیر ملکی مجرموں کے داخلے پر پابندی

بریگزٹ: برطانیہ نے مذاکرات میں جرمنی سے مدد کی اپیل

بریگزٹ تجارتی ڈیل اور مسائل

اس ڈیل میں یوں تو کئی متنازعہ معاملات حل طلب ہیں لیکن سمندری حدود میں سے فریقین کے مچھیروں کے مچھلیاں پکڑنے کا معاملہ خاصا سنگین ہو چکا ہے اور اطراف کے مذاکراتی اہلکاروں نے اس تنازعے پر سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔ ایک روز قبل تک اس میں کسی بڑی پیش رفت کی کوئی سبیل نہیں پیدا ہو رہی تھی۔

برطانوی سمندری حدود میں سے مچھلیاں پکڑنے پر فرانس انتہائی سخت موقف لیے ہوئے تھا لیکن اب نئی بہتر اور سازگار صورت پیدا ہوئی ہے کہ فرانسیسی صدر نے مچھلیاں پکڑنے کے کل حجم میں قدرے معمولی سی کمی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ قبل ازیں صدر ایمانوئل ماکروں نے واشگاف انداز میں کہا تھا کہ وہ ایسے کسی بریگزٹ معاہدے کو تسلیم نہیں کریں گے جو ان کے ملکی مچھیروں کی قربانی پر استوار ہو گا۔

ابھی تک اس پیشکش کا برطانوی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ فرانس اُس برطانوی تجویز کو بھی پہلے ہی مسترد کر چکا ہے جس میں مچھلیاں پکڑنے کا کوٹہ طے کرنے کے لیے سالانہ بنیاد پر مذاکرات کو تجویز کیا گیا تھا۔ اب پیرس حکومت نے اپنے سخت موقف کو تھوڑا سا نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابقہ یورپی یونین کی سمٹ میں ماکروں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ رواں برس کے اختتام پر مچھلی کی صنعت اور اس کے پکڑنے کا شعبہ موجودہ شمل میں قطعاً نہیں ہو گا۔

فِش انڈسٹری کا حجم

یہ امر اہم ہے کہ فرانس میں فِش انڈسٹری انتہائی با اثر اور طاقتور خیال کی جاتی ہے۔ فرانسیسی مچھیرے انگلش سمندر کے علاوہ بحراوقیانوس سے بھی بڑی مقدار میں مچھلی پکڑتے ہیں۔ اس فرانسیسی انڈسٹری کے ساتھ بیس ہزار سے زائد مچھیروں کا روزگار جڑا ہوا ہے۔ اس صنعت کے بے شمار پراسسنگ پلانٹس پر دس ہزار سے زائد افراد کی نوکریاں لگی ہوئی ہیں۔

فرانس کسی صورت بھی نہیں چاہے گا کہ اس کے مچھیروں کو بیروزگاری یا مالی مندی کا سامنا ہو۔

برطانوی سمندر میں سے سن 2011 سے لے کر 2015 تک فرانسیسی فِش انڈسٹری نے اٹھانوے ہزار ٹن مچھلی پکڑ کر ملک اور دوسرے ملکوں کو روانہ کی تھی۔ اس کی مالیت ایک سو اکہتر ملین یورو بنتی ہے۔

فرانسیسی فِش انڈسٹری کی تشویش

اس فرانسیسی فِش انڈسٹری سے وابستہ افراد کو حکومتی اعلان پر تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس کی ایک اہم شخصیت ژیروم وِکلاں کا کہنا ہے کہ انگلش سمندر میں مچھلیاں پکڑنے میں اگر دس سے پندرہ فیصد بھی کمی کی گئی تو یہ ساری صنعت کے لیے بہت بڑا سیٹ بیک ہو گا اور چند سو افراد کی ماہانہ مدن میں کمی ممکن ہو گی۔

فرانسیسی فِش انڈسٹری سے وابستہ اور انڈسٹری کے ورکرز کے حقوق کے کارکن کلیمنٹ بینو کا واضح طور پر کہنا ہے کہ صرف ایک مقصد ہے کہ مچھیروں کے مفادات کو تحفظ دیا جائے اور اس تناظر میں ساری کمیونٹی اپنی جد و جہد جاری رکھے گی۔

ع ح، ع ت (روئٹرز)