برطانیہ میں الیکشن، کیا بحرانی صورتحال ختم ہو سکے گی؟ | حالات حاضرہ | DW | 12.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

برطانیہ میں الیکشن، کیا بحرانی صورتحال ختم ہو سکے گی؟

برطانیہ میں پارلیمانی انتخابات کے سسلے میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ کئی دہائیوں بعد اس انتخابی عمل کو اہم ترین قرار دیا جا رہا ہے۔ کئی اہم موضوعات کے علاوہ اس مرتبہ بریگزٹ کا معاملہ بھی ووٹروں کی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔

برطانیہ میں بارہ اکتوبر بروز جمعرات کو ہونے والے الیکشن کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ووٹنگ سے قبل جاری کیے گئے آخری عوامی جائزوں کے مطابق قدامت پسندوں کا اتحاد معمولی برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کی سربراہی میں اس اتحاد کو اٹھائیس نشستوں کی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف حالیہ ہفتوں کے دوران اہم اپوزیشن لیبر پارٹی کی عوامی حمایت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ قدامت پسند سیاسی اتحاد یا لیبر پارٹی اگر دونوں ہی واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو دیگر چھوٹی پارٹیوں کا کردار انتہائی اہم ہو جائے گا۔ اس صورت میں وزیر اعظم جانسن کے قدامت پسند اتحاد یا جیرمی کوربن کی لیبر پارٹی کو حکومت سازی کے لیے چھوٹی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی ضرورت پڑ جائے گی۔

ویڈیو دیکھیے 02:20

برطانیہ میں عام انتخابات، اہم امور کیا ہیں؟

برطانیہ میں سن دو ہزار پندرہ کے بعد یہ چوتھے الیکشن ہیں۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کے معاملے پر برطانوی پارلیمان میں متفقہ حکمت عملی پر اتفاق نہ ہو سکنے پر ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اگرچہ اس الیکشن میں ہیلتھ کیئر اور ماحولیات جیسے بڑے اور اہم موضوعات بھی عوامی دلچسپی کا باعث ہیں لیکن بریگزٹ کا معاملہ ان پر حاوی ہی رہے گا۔

ووٹنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے تک جاری رہے گا۔ ابتدائی ایگزٹ پولز ووٹنگ ختم ہونے کے فوری بعد ہی سامنے آ جائیں گے۔ برطانیہ میں موسم سرما کی وجہ سے کئی علاقوں میں شدید ٹھنڈ ہے جبکہ بارش اور برفباری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے، اس صورتحال میں ووٹ ڈالنے کی شرح پر فرق پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

الیکشن سے ایک روز قبل بورس جانسن نے اپنے حامیوں کے لیے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قدامت پسندوں کو ووٹ دیں تاکہ ان کی حکومت بریگزٹ کو عملی شکل دیتے ہوئے قوم کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکے۔ دوسری طرف اپوزیشن رہنما جیریمی کوربن نے وزیر اعظم جانسن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عوام حقیقی تبدیلی کی خاطر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

ع ب / ع ا / خبر رساں ادارے

DW.COM