برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ ڈیل تیسری بار بھی مسترد کر دی | حالات حاضرہ | DW | 29.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

برطانوی پارلیمان نے بریگزٹ ڈیل تیسری بار بھی مسترد کر دی

برطانوی پارلیمان نے وزیراعظم ٹریزا مے کی بریگزٹ ڈیل کو تیسری مرتبہ بھی مسترد کر دیا۔ اب یا تو بریگزٹ معاملہ طویل التوا کا شکار ہو جائے گا یا پھر برطانیہ اگلے دو ہفتوں میں بغیر کسی ڈیل کے ہی یورپی یونین سے نکل جائے گا۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اس سے قبل اراکین پارلیمان سے استدعا کی تھی کہ وہ برطانیہ کو کسی سیاسی بحران کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے اس ڈیل کو منظور کر لیں، تاہم پارلیمان نے اس ڈیل کو دو سو چھیاسی کے مقابلے میں تین سو چوالیس ووٹوں کی اکثریت سے مسترد کر دیا۔ اس پیش رفت کے بعد برطانوی کرنسی پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ کے تمام متبادل بھی مسترد

بریگزٹ: دو سالہ مذاکرات کے بعد بھی سب کچھ پھر نئے سرے سے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی پارلیمان کی جانب سے ٹریزا مے اور یورپی یونین کے درمیان طے شدہ اس ڈیل کے مسترد کیے جانے کی وجہ سے ملکی حکومت کو ایک اور دھچکا پہنچا ہے اور اب اس معاملے پر حکومت یک سر بے بس دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعظم مے نے اس سے قبل پیش کش کی تھی کہ اگر اراکین پارلیمان یہ ڈیل منظور کر لیتے، تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جاتیں۔

یہ بات اہم ہے کہ برطانیہ کو آج جمعہ 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جانا تھا، تاہم پارلیمان میں بریگزٹ کے معاملے پر پیدا شدہ تعطل کی وجہ سے یورپی یونین نے برطانیہ کو مزید دو ہفتوں کی مہلت دے دی تھی۔

برٹش پارلیمنٹ میں جمعے کے روز ووٹنگ کے بعد یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے دس اپریل کو برسلز میں یورپی رہنماؤں کا ایک سربراہی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یورپی یونین نے بریگزٹ کے معاملے پر کسی حتمی فیصلے کے لیے پہلے ہی 12 اپریل تک کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اب یا تو برطانیہ کو یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے کے ہی نکلنا ہو گا یا پھر ایک طویل المدتی توسیع پر رضامند ہونا پڑے گا تاکہ پارلیمانی منظوری کے لیے ایک نئے معاہدے یا طریقہ کار تک پہنچا جا سکے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ یورپی پارلیمان کے انتخابات ہونے والے ہیں اور یورپی رہنماؤں کی کوشش تھی کہ ان انتخابات سے قبل بریگزٹ کا معاملہ طے پا جائے، تاکہ برطانوی ووٹر ان انتخابات کا حصہ نہ بنیں۔ وزیر اعظم ٹریزا مے نے بھی کہا ہے کہ بریگزٹ ریفرنڈم کے تین برس بعد برطانوی ووٹروں کو ایک مرتبہ پھر یورپی پارلیمانی انتخابات میں شرکت کے لیے کہنا ایک ’ناقابل قبول عمل‘ ہو گا۔

ع ت، م م (روئٹرز، اے ایف پی)