برطانوی وزیر اعظم جانسن کو شکست، اب کیا ہو گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 04.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

برطانوی وزیر اعظم جانسن کو شکست، اب کیا ہو گا؟

کئی گھنٹوں کی گرما گرم بحث کے بعد برطانوی وزیراعظم بورس جانسن پارلیمان میں ایک ایسی شکست سے دوچار ہو گئے ہیں، جس کے بعد انہیں برطانیہ سے یورپی یونین  کے انخلاء کی تاریخ میں توسیع کرنا پڑ سکتی ہے۔

کیا اس سے قبل برطانیہ کے ایوان زیریں میں اس طرح کی گرما گرمی ہوئی ہے؟  کہ کسی وزیراعظم کو اپنی اولین رائے شماری میں اس طرح کی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے؟ پارلیمان کے پاس بورس جانسن کو بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے انخلاء سے روکنے کا صرف یہ ایک ہی موقع تھا اور اس نے اس کا استعمال کیا۔ کیونکہ وزیر اعظم اگلے ہفتے پیر سے پارلیمان کی کارروائی میں جبری طور پر وقفہ دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔

تاہم گزشتہ شب ارکان پارلیمان نے تین سو ایک کے مقابلے میں تین سو اٹھائیس ووٹوں کی اکثریت سے برطانیہ کے بریگزٹ ایجنڈے کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اس رائے شماری میں جانسن کی ٹوری پارٹی کے اکیس باغی ارکان بھی حزب اختلاف کی صفوں میں جا کھڑے ہوئے۔ اس طرح اب بورس جانسن کے ہاتھ ایک طرح سے بندھ گئے ہیں اور انہیں اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں مشکلات درپیش ہوں گی۔

منگل کی شب ہونے والی رائے شماری میں سب سے اہم کردار جانسن کی پارٹی کے انہی اکیس ارکان نے ادا کیا ہے اور اس خطرے کے باوجود کہ حکومت مخالف ووٹ دینے پر انہیں پارٹی سے نکالا بھی جا سکتا ہے۔

دوسری طرف بورس جانسن نے کہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ نے کسی ڈیل کے بغیر ہی بریگزٹ کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو وہ ملک میں نئے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر دیں گے۔ جانسن کی اپنی ہی قدامت پسند جماعت کے کئی ارکان یہ کہہ چکے ہیں کہ بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے نکلنا برطانوی معیشت کے لیے تباہ کن ہو گا اور اس سے ملک میں ادویات، اشیائے خورد نوش اور ایندھن کی کمی ہو جائے گی۔

اب اس اقدام کے بعدبرطانوی دارالعوام کے ارکان ایسی قانون سازی کر سکیں گے، جس کے تحت وزیر اعظم بریگزٹ کی موجودہ ڈید لائن میں توسیع پر مجبور ہو جائیں گے۔ بورس جانسن بریگزٹ سے قبل اکتوبر کے وسط تک پارلیمان کی محدود معطّلی کا اعلان کر چکے ہیں۔ برطانیہ اکتیس اکتوبر کو یورپی یونین سے نکل جائے گا۔

 

ع ا/ ا ا

DW.COM