بحیرہء روم میں چار روز میں ہزاروں مہاجرین ریسکیو | مہاجرین کا بحران | DW | 01.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہء روم میں چار روز میں ہزاروں مہاجرین ریسکیو

اطالوی کوسٹ گارڈز نے کہا ہے کہ مختلف آپریشنز کے ذریعے گزشتہ چند روز کے دوران ساڑھے چھ ہزار مہاجرین کو بحیرہء روم کی بے رحم موجوں سے بچایا گیا ہے۔

اطالوی کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحلوں سے شکستہ کشتیوں کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والے ہزاروں افراد کو بحیرہء روم میں ریسکیو کیا گیا۔ کوسٹ گارڈز کے مطابق اس دوران کچھ کشتیوں سے کم از کم پانچ مہاجرین کی لاشیں بھی ملی ہیں۔

کوسٹ گارڈز کی جانب سے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا، ’’اطالوی بحری جہاز ویگا نے سمندری لہروں سے لڑنے والے پانچ مہاجرین کو اٹھایا۔ ان میں سے تین کی حالت تشویش ناک تھی، جب کہ دو دم توڑ چکے تھے۔‘‘

جرمن امدادی ادارے یوگنڈ ریٹیٹ کا کہنا ہے کہ اس کی امدادی کشتی لوفینٹا بھی ریسکیو آپریشنز میں شامل ہے، اور اس نے ڈوبنے والی ایک ربر کی کشتی سے 130 مہاجرین کو بچایا، تاہم دو کی لاشیں ملیں۔

Lampedusa Gerettetes Flüchtlingsbaby

جمعرات سے اب تک ساڑھے چھ ہزار سے زائد مہاجرین بچائے گیے ہیں

ایک اور امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایک ماہی گیر کشتی کے ذریعے چار سو ستر مہاجرین اطالوی جزائر کی جانب بڑھ رہے تھے، تاہم یہ کشتی بحیرہ روم کی موجوں کو برداشت نہ کر پائی۔ اس کشتی پر موجود تمام افراد کو بچا لیا گیا، تاہم ایک لاش یہاں بھی ملی۔

اتوار کے روز بھی لیبیا کے ساحلوں کے قریب مختلف آپریشنز کے دوران گیارہ سو مہاجرین کو بتایا گیا، اس طرح جمعرات سے اب تک بچائے جانے والے مہاجرین کی مجموعی تعداد چھ ہزار پانچ سو تیس ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ رواں برس کے آغاز سے اب تک سب صحارن افریقہ سے تعلق رکھنے والے قریب 89 ہزار مہاجرین ایسی کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ یہ افراد جنگ زدہ یا انتہائی پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یورپی یونین تک کے اس خطرناک سفر کی وجہ ایک بہتر زندگی کی تلاش ہے۔

گزشتہ برس جنوری تا جولائی کے دورانیے میں شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے والے افراد کے مقابلے میں رواں برس یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق ترکی سے بحیرہء ایجیئن کے ذریعے یونان کا راستہ بن ہو جانے کے بعد شمالی افریقہ سے یورپی یونین پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔