بالی وڈ فلم ’دنگل‘ نے چینی باکس آفس کے ریکارڈ توڑ دیے | فن و ثقافت | DW | 22.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بالی وڈ فلم ’دنگل‘ نے چینی باکس آفس کے ریکارڈ توڑ دیے

بالی وڈ فلم ’دنگل‘ چین میں  اب تک 112 ملین ڈالر کا کاروبار کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یوں چین میں ہالی وڈ فلموں کے بعد یہ  سب سے زیادہ منافع کمانے والی غیر ملکی سینیما کی فلم بن گئی ہے۔

بالی ووڈ کی  فلم ’دنگل‘ چین میں پانچ مئی کے روز ریلیز کی گئی تھی۔ یہ فلم  ایک ایسے باپ کی کہانی ہے جو اپنی دو بیٹیوں کو پہلوان بننے کی تربیت دیتا ہے اور اس کی بیٹیاں پہلوانی کے مقابلے میں بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

یہ فلم کُشتی کے ایک ٹرینر ماہویر سنگھ پھوگت کی زندگی کے ایک سچے واقعہ پر مبنی ہے۔ ماہویر سنگھ نے اپنی دو بیٹیوں، گیتا اور ببیتا، کی اس طرح تربیت کی کہ وہ کشتی کے مقابلوں کی عالمی چیمپئین بن گئی تھیں۔ گیتا نے سن 2010  میں  اور اس کی بہن ببیتا نے  سن 2014 میں کامن ویلتھ گیمز میں بھارت کے لیے سونے کے تمغے جیتے تھے۔ دنگل میں ماہویر سنگھ کا کردار بالی وڈ کے نامور اداکار عامر خان نے ادا کیا ہے اور اس فلم کے ہدایت کار نیتیش تیواری ہیں۔

بھارت میں یہ فلم گزشتہ برس دسمبر میں ریلیز ہوئی تھی اور جلد ہی یہ بھارتی سینیما کی تاریخ میں سب سے زیادہ منافع کمانے والی فلم بن گئی تھی۔ بھارتی فلم انڈسٹری کے مطابق دنگل فلم اب تک بین الاقوامی سطح پر 233 ملین امریکی ڈالر کما چکی ہے۔ صرف بھارت میں اس فلم نے 3.87 ارب روپے کمائے تھے۔ اس فلم میں بچوں کی بہتر تربیت اور خصوصی طور پر لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیغام لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں ایک تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

چینی سوشل میڈیا پر بھی اس فلم کی بہت زیادہ پذیرائی کی جارہی ہے۔ ایک شخص  نے اس فلم کے حوالے سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا، ’’ اس فلم نے مجھے بچوں کی بہتر تربیت کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔‘‘  چین کے اخبار ’پیپلز ڈیلی‘ نے لکھا ہے کہ  خواتین کے حقوق کے موضوع پر بنائی گئی اس فلم نے چینی عوام کے دلوں کو چھو لیا ہے۔

DW.COM

اشتہار