بارہ ملکوں میں ′منکی پاکس′ کی تصدیق، بڑھتے کیسز پر عالمی ادارہ صحت فکرمند | حالات حاضرہ | DW | 23.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بارہ ملکوں میں 'منکی پاکس' کی تصدیق، بڑھتے کیسز پر عالمی ادارہ صحت فکرمند

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 12 ملکوں میں 'منکی پاکس' کے تقریباً ایک سو کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے دیگر ملکوں میں بھی اس کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

مغربی ملکوں میں 'منکی پاکس' (آبلہ بندر) کے بڑھتے ہوئے کیسز نے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ اب تک 12ملکوں میں منکی پاکس کے 92 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 28 مشتبہ کیسز جانچ کے مرحلے میں ہیں۔

جن ملکوں میں منکی پاکس کے کیسز ملے ہیں ان میں آسٹریلیا، بیلجیئم، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کا اظہار تشویش

عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ منکی پاکس کے مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ ہے کیونکہ اس نے ان ملکوں میں بھی اپنی نگرانی شروع کرادی ہے جہاں یہ بیماری بالعموم نہیں ہوتی تھی۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ وہ منکی پاکس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے آنے والے دنوں میں اپنی رہنمائی اور سفارشات پیش کر ے گا۔

ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ عالمی ادارہ متاثرہ ملکوں اور اپنے شرکاء کار کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ اس بیماری کی وسعت کی سنگینی اور اس کے پھیلنے کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے،"یہ وائرس بعض ملکوں میں جانوروں میں موجود رہاہے جس سے وقتا ً فوقتاً مقامی افراد اور مسافروں متاثر ہوتے رہتے ہیں۔"

بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ نیا وائرس لوگوں کے ایک دوسرے کے رابطے میں آنے سے پھیل رہا ہے اس لیے متاثرہ افراد اور ان سے قریبی تعلقات رکھنے والے افراد پر توجہ مرکوزکی جانی چاہئے۔

منکی پاکس کے کیسز اس وقت یورپ میں بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت ' گے کمیونٹی' کے منکی پاکس سے متاثر ہونے کے کیسز کی بھی جانچ کررہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدیدار اور متعدی امراض کے ماہر ڈیوڈ ہیمین نے کہا کہ اس وقت یہ معلوم ہو رہا ہے کہ یہ بیماری جنسی رابطوں کے ذریعے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کے نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایاکہ اس سلسلے میں ماہرین کی ایک بین الاقوامی کمیٹی نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تبادلہ خیال کیا ہے جس میں گفتگو ہوئی کہ بیماری کے پھیلنے سے متعلق کس قسم کی تحقیق ہونی چاہئے۔ عوام کو کیا معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے؟ علامات کے بغیر اس بیماری کا پھیلاؤ کس قدر ہے۔ آبادی کے کون سے حصے اس بیماری کی وجہ سے خطرے میں ہیں اور اس کے پھیلنے کے راستے کون سے ہیں؟

'آپ خود اپنی حفاظت کرسکتے ہیں'، بائیڈن

امریکی صدر جو بائیدن نے یورپ اور امریکہ میں منکی پاکس کے متعدد کیسز سامنے آنے کے بعد اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس بیماری کے حوالے سے اپنے پہلے عوامی تبصر ے میں بائیڈن نے کہا،”یہ تشویش کی بات ہے کیونکہ اگر یہ بیماری پھیل جاتی ہے تو اس کے مضمرات ہوں گے۔ مجھے اس کی شدت کے بارے میں نہیں بتایاگیا ہے لیکن یہ بہر حال ایسی چیز ہے جس پر ہر شخص کو فکر مند ہونا چاہئے۔ہم سنجیدگی سے اس معاملے پر کام کررہے ہیں کہ اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔"

منکی پاکس کیا ہے؟

منکی پاکس ایک وائرس ہے جس کے نتیجے میں بخار کی علامت ظاہر ہوتی ہے۔ مریض کے جسم پر آبلے ابھر آتے ہیں، جسم سوج جاتا ہے، پٹھوں میں اور سر میں درد ہوتا ہے۔

یہ وائرس کسی متاثرہ شخص کے جسمانی سیال سے یا تنفس اورچھونے والی سطحوں کے ساتھ رابطے دونوں کے ذریعے انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے۔ یہ بیماری بالعموم دو سے چار ہفتے تک رہتی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ وائرس کووڈ انیس کی طرح وبا میں تبدیلی ہوجائے گی۔

منکی پاکس یا آبلہ بندر انسانوں اور جانوروں دونوں میں بیماری کا سبب بنتا ہے۔اس بیماری کا پتہ پہلی مرتبہ 1958میں وسطی افریقہ کے بارانی جنگلوں میں چلا تھا۔انسانوں میں اس کا پہلا کیس 1980کی دہائی میں سامنے آیا تھا۔ یہ وبا ماضی قریب میں افریقہ سے باہرشاذ و نادر ہی پھیلی ہے البتہ اس مرتبہ مغربی ممالک میں انفیکشن کے نئے سلسلے نے تشویش کوجنم دیا ہے۔

ج ا/ ص ز (روئٹرز، ڈی پی اے، اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 03:00

کیا کورونا کے بعدہونے والی پیچیدگیاں زیادہ خطرناک ہیں؟

DW.COM