1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Cricket I Babar Azam - Pakistan
تصویر: Rui Vieira/AP/picture alliance

بابر اعظم یہ واقعہ جلد بھول جانا چاہیں گے

11 جون 2022

پاکستان نے دوسرے ایک روزہ ون ڈے میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر تین میچوں کی سیزیر میں دو صفر سے فیصلہ کن برتری تو حاصل کر لی لیکن اس کامیابی کے دوران ایک واقعہ ایسا بھی رونما ہوا، جسے بابر اعظم جلد ہی بھول جانا چاہیں گے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A8%D8%A7%D8%A8%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85-%DB%8C%DB%81-%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%81-%D8%AC%D9%84%D8%AF-%D8%A8%DA%BE%D9%88%D9%84-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7-%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92/a-62099140

تین ایک روزہ میچوں کے سلسلے میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے مابین ملتان میں کھیلے گئے دوسرے میچ میں پاکستان نے مہمان ٹیم کو 120 رنز سے مات دے دی۔

تاہم اس شاندار کامیابی کے ساتھ ہی جمعے کے دن کھیلے گئے اس میچ میں بابر اعظم کی ایک غلطی پر آن فیلڈ ایمپائر نے ویسٹ انڈیز کو پینلٹی کے پانچ رنز دے دیے۔

گو کہ جرمانے کے یہ اضافی رنز اس میچ کے نتیجے پر اثر انداز نہیں ہوئے لیکن پاکستانی کپتان اور دنیائے کرکٹ کے موجودہ ایک بہترین بلے باز بابر اعظم کے لیے سبکی کا باعث ضرور بنے ہوں گے۔

قانون کیا کہتا ہے؟

ملتان میں کھیلے گئے اس دوسرے ون ڈے میچ کے انتیسویں اوور کے دوران بابر اعظم نے وکٹ کیپر کا دستانہ پہن کر ایک تھرو کو پکڑا۔ امپائر نے اس حرکت کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو پانچ رنز اضافی دے دیے۔

ہوا کچھ یوں کہ بابر اعظم نے شغل میں وکٹ کیپر محمد رضوان کا وکٹ کیپنگ دستانہ پہن لیا اور جب تھرو کیا گیا تو بابر اعظم نے گیند کو کیچ کر لیا۔ اس حرکت سے بابر اعظم کی آئی سی سی کے قوانین سے متعلق ان کی لاعلمی کا اظہار ہوتا ہے۔

کرکٹ قوانین کی شق نمبر 28.1 کے مطابق وکٹ کیپر کے علاوہ فیلڈ میں موجود کوئی بھی کھلاڑی فیلڈنگ کے دوران دستانہ یا ہاتھوں کی حفاظت کے لیے کوئی بھی حفاظتی گارڈ نہیں پہن سکتا۔ تاہم اس قانون کے تحت فیلڈرز انجرڈ انگلیوں کے تحفظ کے لیے بینڈیج لگا سکتے ہیں تاہم اس کے لیے بھی ایمپائر سے اجازت طلب کرنا لازمی ہے۔

سنجیدہ نوعیت کی غلطی نہیں تھی

پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی طرف سے یہ غلطی کوئی سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی کھلاڑی کرکٹ کے قوانین سے کس حد تک واقف ہے۔

بالخصوص قومی کرکٹ ٹیم کے کپتانوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فیلڈ میں اپنی ٹیم کے لیے ایک مثال بنیں اور اپنے عمل سے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو متاثر کریں۔ اس لیے غالبا یہ واقعہ بابر اعظم کے لیے خوشگوار ثابت نہیں ہوا ہو گا اور وہ جلد ہی اس واقعے کو بھول جانا چاہیں گے۔

ستائیس سالہ بابر اعظم اس وقت اپنی زندگی کی بہترین فارم میں ہیں۔ انہوں نے گزشتہ آٹھ ون ڈے میچوں میں انفرادی طور پر پانچ سو سے زائد رنز اسکور کیے ہیں، جن میں تین مسلسل سنچریاں بھی شامل ہیں۔

سیریز پاکستان کے نام

ملتان میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی اور مقررہ پچاس اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 275 رنز بنائے، جس میں کپتانی کپتان بابر اعظم کے شاندار 77 رنز بھی شامل تھے۔ پاکستان کی طرف سے امام الحق نے بھی نصف سنچری بنائی اور وہ بہتر رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے پونے تین سو رنز کا تعاقب شروع کیا تو وہ بالخصوص پاکستان کی سپن بولنگ کا مقابلہ نہ کر سکی اور وقفے وقفے سے اس کی وکٹیں گرتی رہیں۔ سپنر محمد نواز کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے مہمان ٹیم تینتیسویں اوور میں 155 رنز بنا کر ڈھیڑ ہو گئی۔ نواز نے چار وکٹیں حاصل کیں۔

اس تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا تیسرا میچ بھی ملتان میں کھیلا جائے گا۔ اتوار کو ہونے والے اس مقابلے میں ویسٹ انڈیز کوشش ہو گی کہ وہ کلین سویپ سے بچ جائے۔ اس سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈٰیز کو پانچ وکٹوں سے شکست دی تھی۔

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Afghanistan | Frauenrechte | Proteste in Afghanistan

افغانستان: طالبان اقتدار کا ہنگامہ خیز ایک برس

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں