بائیو این ٹیک اور موڈیرنا: ایم آر این اے ویکسین کے بعد دل کی سوزش | حالات حاضرہ | DW | 27.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

بائیو این ٹیک اور موڈیرنا: ایم آر این اے ویکسین کے بعد دل کی سوزش

بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے امریکی مرکز، ’ سی ڈی سی‘ نے تصدیق کی ہے کہ کورونا کے خلاف ویکسین ایتھلیٹک افراد اور جوان لوگوں میں دل کی سوزش کا سبب بن رہی ہے۔

اس سال اپریل کے بعد ہی سے اس امر کی نشاندہی ہو رہی تھی کہ کووڈ انیس کے خلاف لگائی جانے والی ایم آر این اے ویکسین کے اثرات ایتھلیٹک افراد اور جوان لوگوں میں دل کی سوزش کی شکل میں سامنے آرہے ہیں۔

طبی اصطلاح میں اسے 'میوکارڈیٹس‘ کہتے ہیں۔ یہ دل کے پٹھوں میں سوزش کا سبب بننے والی علامت ہے۔ ایم آر این اے ویکسین لگوانے والے افراد، خاص طور سے جوان اور ایتھلیٹک یا جسمانی ورزش اور کثرت وغیرہ کرنے والوں میں دل کی سوزش پیدا ہونے کا سب سے پہلے اسرائیلی صحت کے حکام نے انکشاف کیا تھا۔ اسرائیل کے صحت کے حکام کی طرف سے اس شکایت کے سامنے آنے تک یہ ملک ویکسینیشن مہم میں کافی تیز رفتاری سے آگے بڑھ چکا تھا اور ان کے پاس مریضوں کے مفصل اور وسیع اعداد و شمار بھی جمع ہو چُکے تھے۔

ڈنمارک نے ایسٹرا زینیکا ویکسن لگانا بند کر دی

اُدھر بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے امریکی مرکز، ' سی ڈی سی‘ کی طرف سے بھی ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ کووڈ انیس کے خلاف mRNA ویکسینیشن کے بعد اپریل کے مہینے سے قریب ایک ہزار 'میوکارڈیٹس‘ یا ' پیریکارڈیٹس‘ یعنی ' غلاف قلب کے ورم‘ کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ علامات ان لوگوں میں پائی گئیں جنہوں نے بائیو این ٹیک فائزر اور موڈیرنا ویکسین لگوائی۔ ان میں سے زیادہ تر کی عمریں 16 سال سے اوپر تھیں۔ ویکسین کی دوسری خوراک یا دوسرے ٹیکے کے چند روز بعد ہی ان میں یہ آثار دکھائی دیے۔ ' سی ڈی سی‘ کے بیان میں کہا گیا کہ زیادہ تر مریض جن کو علاج اور دیکھ بھال فراہم کی گئی وہ جلد ہی بہتر محسوس کرنے لگے۔

Japan I Coronavirus I Impfung

امریکا میں اکثریتی عوام کو موڈیرنا ویکسین لگائی گئی ہے۔

سوزش عموماً انفیکشن کے بعد ہوتی ہے

دل کے پٹھوں یا غلاف قلب کی سوزش کا تعلق محض ویکسینیشن سے نہیں یا یہ صورتحال ویکسینیشن کے ضمنی اثرات کے طور پر ہی نہیں پیدا ہوتی بلکہ یہ صحت مند افراد اور ایتھلیٹک یا ورزش کرنے والوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے اور بعض کیسز میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ خطرہ خاص طور پر اُس وقت بہت بڑھ جاتا ہے جب ورزش کرنے والے کسی انفیکشن کو جانے بغیر اور اس کے خطرات سے ناواقف ہوتے ہوئے، اسے سنجیدگی سے نہ لیتے ہوئے اپنی جسمانی کثرت اور ورزش وغیرہ جاری رکھیں۔ انہیں پتا ہونا چاہیے کہ ان کے جسم کو آرام کی ضرورت ہے۔ اگر ان کے جسم میں کوئی انفیکشن موجود ہے تو آرام ضروری ہے ورنہ صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چند وائرس عام محرکات وائرس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر 'سرد وائرس‘ ) ایڈینو وائرسس اور کاکسیکی وائرس( ہرپس یا فلو وائرس وغیرہ۔  SARS-CoV-2 بھی اکثر قلب کی سوزش کی دو اقسام کا سبب بنتے ہیں۔ عام طور سے سوزش جسم کے مدافعتی قوت کا کسی وائرس کے خلاف عملی جواب ہوتا ہے۔ 

ویکسینیشن کے بعد اگر کسی بھی شخص کے سینے میں درد ہو یا اُسے سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے یا دل کی دھڑکن بہت تیز ہو تو اسے فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ علامات انتباہی اشارے ہیں خاص طور سے ویکسینیشن کے بعد کے پہلے ہفتے کے دوران۔

Kind beim Inhalieren

ایسے کم عمر بچے جنہیں پہلے ہی سے سانس کی تکلیف ہو، ان کے لیے ویکسین لگانے کے بارے میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

ویکسینیشن لگوانی چاہیے؟

کووڈ انیس کے شکار افراد میں دل کے انفیکشن کے امکانات کووڈ انیس کے خلاف ویکسین لگوانے کے بعد دل کی سوزش کے امکانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ مزید برآں امریکا سے ملنے والی رپورٹوں میں جن کیسز کا ذکر ہے ان میں اکثر دل کا انفیکشن کورونا ویکسینیشن کے بعد ٹھیک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے امریکی مرکز، ' سی ڈی سی‘ مسلسل سفارش کر رہا ہے کہ 12 سال اور اس سے اوپر کی عمر کے تمام بچوں کو کووڈ انیس کے خلاف ویکسین لگائی جائے اور یہ بھی کہ ویکسین کے مکمل ڈوز یا خوراک یعنی دوسرا شاٹ لگوانا بھی ضروری ہے۔

یورپی یونین میں ویکسینیشن پاس پر غور

ادھر جرمنی کی قائمہ کمیٹی برائے ویکسینیشن نے اب تک کوئی ایسی عمومی سفارش نہیں جاری کی ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہو کہ نو عمر بچوں کی بھی ویکسینیشن کی جائے۔ حالانکہ  بائیو این ٹیک / فائزر ویکسین کو یورپی میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے پہلے ہی 12 سال یا زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے منظور کرلیا ہے۔ لہذا والدین کو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد اپنے بچوں کو کورونا ویکسین لگوانے کی مکمل آزادی حاصل ہے تاہم کسی بھی صورت میں ، اگر بچوں یا کم عمروں کے والدین کو پتا ہو کے ان کے بچوں میں پہلے سے صحت کے کسی بھی قسم کے مسائل پائے جاتے ہیں تو انہیں ان کی ویکسینیشن کرانے سے پہلے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

فابیان شمٹ/ ک م/ ع آ

برطانیہ: ایسٹرا زینیکا ویکسین سے بلڈ کلوٹنگ کے مجموعی کیسز اب تیس

بھارت: کورونا ویکسین کے سائیڈ افیکٹس سے سینکڑوں متاثر

DW.COM