اے محبت تیرے انجام پہ... | معاشرہ | DW | 20.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

اے محبت تیرے انجام پہ...

بھارت میں جرائم کے اعداد و شمار رکھنے والے سرکاری ادارہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیوروکی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں محبت میں قتل کے واقعات میں غیر معمولی طور پراٹھائیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2017کے درمیان قتل کے واقعات سالانہ 36202 سے گھٹ کر28653 ہوگئے۔ ذاتی رنجش کے سبب ہونے والے قتل میں چار فیصد اور جائیداد کے جھگڑوں میں قتل کے معاملات میں بارہ فیصد کمی آئی لیکن محبت کے معاملے میں قتل کے واقعات میں اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پچھلے سولہ برسوں کے دوران محبت کے نام پر مجموعی طور پر قتل کے 44412 واقعات یعنی سالانہ اوسطاً 2776 واقعات پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق محبت میں قتل کے سب سے زیادہ واقعات جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں پیش آئے جہاں لو افیئر کی وجہ سے 384 افراد کو ہر سال موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔ گویا ہر روز کم از کم ایک محبوب کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔

Symbolbild - Ehrenmord - Pakistan (picture alliance/dpa/B. Roessler)

محبت میں قتل کے بڑھتے واقعات کا سبب بھارتی سماج میں پائی جانے والی قدامت پسندی اور آزادی کی کمی ہے

دوسرا نمبر مہاراشٹر کا ہے جہاں 277 لوگوں کا قتل ہوا۔ اس کے بعد گجرات ہے جہاں 158 افراد قتل کردیے گئے۔ چوتھے نمبر پر پنجا ب ہے جہاں 98 عاشقوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ تاہم اوسط کے لحاظ سے محبت کے نام پر قتل کے معاملے میں اترپردیش سر فہرست ہے۔ جہاں محبت ہر سال  395 لوگوں کے قتل کا سبب بنی۔ چھتیس گڑھ، ہریانہ، راجستھان، بہار، جھارکھنڈ اور آسام جیسی ریاستوں میں بھی محبت کی وجہ سے بڑی تعداد میں قتل کے واقعات پیش آئے۔

محبت کی وجہ سے قتل کے سب سے کم واقعات مغربی بنگال اور کیرالا میں پیش آئے۔ 2001 سے 2017 کے درمیان مغربی بنگال میں 29 اور کیرالا میں صرف چھ ایسے واقعات پیش آئے۔

ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ محبت میں قتل کے بڑھتے واقعات کا سبب بھارتی سماج میں پائی جانے والی قدامت پسندی اور آزادی کی کمی ہے۔ پیار کرنے کی آزادی سماج میں اب بھی ہر کسی کو حاصل نہیں ہے۔ زندگی کے بہت سارے معاملات کو سماج اب بھی اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے۔

Männer-Paar hält Hände (picture-alliance/empics/D. Lawson)

زندگی کے بہت سارے معاملات بشمول محبت کو سماج اب بھی اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے

ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت میں گذشتہ ایک دو دہائیوں کے دوران سماجی اور اقتصادی ترقی کی وجہ سے کچھ پابندیا ں نرم ہوئی ہیں۔ مثلاً لڑکیوں کے گھر سے باہر نکلنے، تعلیم حاصل کرنے، ملازمت کرنے کی آزادی ملی ہے۔ لڑکے لڑکیوں کے ایک دوسرے سے ملنے کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے تاہم مرد اور عورت کے تعلقات کے حوالے سے سماج کی قدامت پرستانہ خیالات میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اسی طرح ذات پات اور فرقوں کی پابندیاں بظاہر نرم دکھائی تو دیتی ہیں لیکن حقیقت کی دنیا میں یہ ضابطے اب بھی پہلے کی طرح ہی سخت ہیں۔

ماہرین کے مطابق پیار میں قتل کے بھی کئی پہلو ہیں۔ مردوں کی بالادستی والی سوچ آج بھی پوری طرح حاوی ہے اور ایک مرد اس بات کو برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئی عورت محبت کی اس کی پیشکش کو ٹھکرا دے اور کسی اور کو اپنا لے۔ ایسے میں وہ اس عورت کو یا اس کے محبوب کو قتل کرنے سے گریز نہیں کرتا۔

ماہرین مزید کہتے ہیں کہ محبت میں قتل کا دوسرا پہلو غیرت کے نام پر یا آنر کلنگ ہے۔ ماں باپ، رشتہ دار، خاندان اکثر یہ برداشت نہیں کرپاتا ہے کہ بچے اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور ذات، مذہب کے بندھن کو مسترد کردیں۔ بالخصوص لڑکیوں کے کسی دوسری برادری یا فرقہ کے لڑکے سے محبت اور شادی کرنے سے سب کی عزت چلی جاتی ہے۔ 'عزت‘ بچانے کے خاطرخاندان کے ذریعہ ایسی لڑکیوں کو قتل کردینے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

Symbolbild Partnersuche (Colourbox)

محبت کو عالمگیر جذبے کا نام دیا جاتا ہے

ایک تحقیق کے مطابق 2005 سے 2012 کے درمیان ایسے 44 فیصد قتل بین ذات (انٹر کاسٹ) شادیوں کی وجہ سے ہوئے جب کہ 56 فیصد قتل صر ف اس لیے ہوئے کیوں کہ خاندان کو لڑکے یا لڑکی کا اپنا فیصلہ کرنا منظور نہیں تھا۔

دہلی، ممبئی کے علاوہ اترپردیش اور راجستھان میں سماجی رویوں کے حوالے سے 2016 میں ایک سروے کیا گیا تھا جس میں حصہ لینے والوں کی اکثریت بین ذات اور بین مذاہب شادیوں کی نہ صرف مخالف تھی بلکہ وہ اسے روکنے کے لیے قانون سازی کے حق میں تھی۔ اس سروے میں اہم رول ادا کرنے والے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر امیت تھوراٹ کا کہنا ہے”یہ انتہائی افسوس ناک اور کسی صدمہ سے کم نہیں کہ خواندگی اور تعلیم میں اضافہ کے باوجود قدامت پسندانہ سوچ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

 

DW.COM