ایک نئے جوہری پاور پلانٹ کے لئےپاک چین بات چیت | حالات حاضرہ | DW | 21.09.2010
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایک نئے جوہری پاور پلانٹ کے لئےپاک چین بات چیت

منگل کو پاکستان نے چین کے ساتھ ایٹمی توانائی کے ایک نئے پلانٹ کے تعمیر پر بات چیت کی تصدیق کردی ہے

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان کا چین کے ساتھ پر امن مقاصد کے لئے ایک جوہری پاور پلانٹ کی تیاری پر بات چیت جاری ہے اور اس میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے IAEA کے تمام ضابطوں کا خیال رکھا گیا ہے۔

امریکی اخبار Wall Street Journal کے مطابق چین کی ایک کمپنی اور پاکستان کے درمیان پاکستان میں ایک گیگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بنانے کے لئے بات چیت چال رہی ہے۔ پاکستان کی جوہری سرگرمیوں پر امریکہ اور بھارت نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ ایٹمی مواد پاکستان اور افغان سرحدوں پر سرگرم طالبان کے ہاتھوں نہ لگ جائے۔

چین نے پہلے ہی پاکستان کے صوبہ پنجاب میں چشمہ کے مقام پر تین سو گیگاواٹ کا ایک پلانٹ تعمیر کیا ہے۔ ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایک ایسا ہی پلانٹ رواں سال کے اختتام پر یا اگلے سال کے اوائل میں کام کرنا شروع کردے گا۔ مزید یہ کہ چین کو چشمہ کے مقام پر دو اور پلانٹ لگانے کا ٹھیکہ بھی دیا گیا ہے۔

Dr. Abdul Qadeer Khan

امریکہ پاکستانی ایٹمی سائنسداان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوابھی بھی غیر قانونی ایٹمی پھیلاؤ کے لئے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔

چینی کمپنی China National Nuclear Corp.(CNNC)کے نائب صدر Qiu Jiangangکے مطابق انکی کمپنی پاکستان کے درمیان ایک گیگا واٹ کے پلانٹ پاکستان برآمد کرنے کے بارے میں بات چل رہی ہے۔

پاکستانی ایٹمی ماہر شاہدالرحمن نے بھی چین اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو اس وقت توانائی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سال 2025 تک پاکستان 8 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا اردا رکھتا ہے، جس کے لئے اس کو چین کی مدد درکار ہوگی۔

امریکہ نے پاکستان کے چین کی مدد سے چشمہ کے مقام پر تعمیر ہونے والے تیسرے اور چھوتھے پلانٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے پاکستان کو Nuclear Supply Group (NSG) سے خاص اجازت لینی پڑے گی۔ مگر ایک پاکستانی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ان پلانٹس کو ایسی کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ چین کا سال 2004 ء میں NSG میں شمولیت سے پہلے طے پایا تھا۔

پاکستان کا موقف ہے کہ یہ ایٹمی توانائی کے پلانٹ IAEA کے اصولوں کے مطابق ہیں،پاکستان ملک کی ضرورت کی صرف دو تہائی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بجلی کی کمی نے ملکی معشیت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

مغربی دنیا کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تشویش اس وقت شروع ہوئی، جب 2004 میں پاکستانی ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی راز دینے کی تصدیق کی تھی،گوکہ بعد میں ڈاکٹر قدیر نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا مگر امریکہ ان کو ابھی بھی غیر قانونی ایٹمی پھیلاؤ کے لئے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔

رپورٹ: سمن جعفری

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار