ایک دن میں ساڑھے گیارہ ہزار مہاجرین: ایک نیا ریکارڈ | مہاجرین کا بحران | DW | 25.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ایک دن میں ساڑھے گیارہ ہزار مہاجرین: ایک نیا ریکارڈ

کروشیائی حکومت کے مطابق ہفتے کے روز ساڑھے گیارہ ہزار مہاجرین اس مشرقی یورپی ملک میں داخل ہوئے جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ وسط ستمبر سے اب تک کروشیا پہنچے والے تارکین وطن کی مجموعی تعداد دو لاکھ پچاس ہزار کے قریب ہو گئی ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں یورپ کی طرف گامزن مہاجرین کی لہر ابھی تک تھم نہیں سکی ہے۔ یورپی یونین کے مختلف ممالک نے ملکی سرحدیں بند کر کے مہاجرین کو روکنے کی کوشش کی، لیکن یہ مہاجرین نئے راستوں سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کروشیا کی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق ہفتے کے روز 11500 مہاجرین کروشیا میں داخل ہوئے جو ایک دن میں ان کے ملک پہنچنے والے پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

گزشتہ مہینے تک تارکین وطن ترکی سے یونان اور پھر وہاں سے مقدونیہ اور سربیا سے ہوتے ہوئے ہنگری میں داخل ہو رہے تھے۔ ہنگری اور سربیا کے مابین سرحد کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد پناہ گزین کروشیا کے راستے ہنگری پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہنگری کے حکومت نے کروشیا کے ساتھ لگنے والی سرحد کو بھی بند کر دیا تو مہاجرین نے نیا راستہ اختیار کیا۔ اب مہاجرین کروشیا سے سلووینیا اور پھر وہاں سے آسٹریا پہنچ رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ سردی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہاجرین کی آمد کا سلسلہ بھی کم ہو جائے گا تاہم زمینی صورت حال توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر مہاجرین کی منزل جرمنی، سویڈن اور دیگر اسکینڈی نیوین ممالک ہیں۔ تارکین وطن کو اندیشہ ہے کہ ان کی منزل تک پہنچنے کے لیے یہ نیا راستہ بھی عنقریب بند ہو جائے گا۔ اسی لیے مہاجرین جلد از جلد کروشیا کے راستے سلووینیا پہنچ رہے ہیں۔

ادھر ترکی سے سمندری راستے کے ذریعے یونانی جزیروں پر پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق کتوبر کی 17 سے لے کر 21 تاریخ تک بحیرہ روم میں یونانی جزائر پر ہر روز اوسطاﹰ قریب نو ہزار چھ سو مہاجرین پہنچے اور پانچ دنوں میں ایسے نئے تارکین وطن کی تعداد 48 ہزار تک پہنچ گئی۔

DW.COM

اشتہار