1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتاسرائیل

ایک تہائی سے زائد یرغمالی مارے جا چکے ہیں، اسرائیلی حکومت

4 جون 2024

اسرائیل کو یقین ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد میں سے ایک تہائی سے زیادہ اب زندہ نہیں ہیں۔ یہ حکومتی اندازہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب امریکہ ان یرغمالیوں کی واپسی کی ایک ڈیل کے ذریعے غزہ میں جنگ بندی چاہتا ہے۔

https://p.dw.com/p/4gcdY
Israel Rishon LeZion | Poster zeigt entführte Ariel Cunio, Arbel Yehoud and Dolev Yehoud
تصویر: Marco Longari/AFP/Getty Images

غزہ میں فعال فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کے جنگجوؤں نے سات اکتوبر کو اسرائیلی سرزمین پر حملہ کرتے ہوئے جہاں بارہ سو کے قریب شہریوں کو ہلاک کر دیا تھا، وہیں یہ عسکریت پسند تقریباً ڈھائی سو افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ واپس غزہ پٹی بھی لے گئے تھے۔

دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ پٹی میں حماس کے جنگجوؤں کے خلاف خصوصی عسکری آپریشن شروع کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اس جنگجو گروہ کو 'نیست و نابود‘ کرنے کا عہد کیے ہوئے ہیں جبکہ عالمی بالخصوص امریکی دباؤ کے باعث اب نیتن یاہو غزہ میں گزشتہ قریب آٹھ ماہ سے جاری فوجی کارروائی کے خاتمے کے بارے میں کم از کم بات چیت پر رضا مند ہو چکے ہیں۔

’رفح کے وسط تک پہنچ گئے ہیں،‘ اسرائیلی فوج

اسرائیلی فوج کے رفح پر حملوں میں شدت

یرغمالیوں کی ہلاکت کیسے ہوئی؟

حماس کی قید میں یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اس لڑائی کو روکنے کا منصوبہ زیر بحث ہے۔ کچھ دن قبل تک یہ خیال تھا ان یرغمالیوں میں سے اب بھی تقریباﹰ ایک سو زندہ ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ 30 یرغمالیوں کی جسمانی باقیات بھی ابھی تک حماس کے جنگجوؤں کے قبضے میں ہیں۔

غزہ میں جنگ بندی، نیتن یاہو پر بڑھتا دباؤ

تاہم منگل کو اسرائیلی حکام نے نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک سو بیس یرغمالی بدستور قید ہیں۔ اس فہرست میں وہ تینتالیس خواتین بھی شامل ہیں، جن کی لاشیں تو نہیں ملیں لیکن اسرائیلی حکام مختلف ذرائع کی بنیاد پر انہیں مردہ قرار دے چکے ہیں۔ ان ذرائع میں انٹیلی جنس رپورٹیں، سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج یا عام شہریوں کی ویڈیوز اور فورینزک تجزیے شامل ہیں۔

کچھ حکام کا البتہ کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ حماس کے جنگجو متعدد مرتبہ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب کے طور پر یرغمالیوں کو ہلاک کر دیں گے۔ تاہم ابھی تک انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

اس فلسطینی عسکریت پسند گروہ نے کہا ہے کہ اس کی قید میں ہلاک ہونے والے یرغمالی دراصل اسرائیلی حملوں کی وجہ سے ہی مارے گئے۔ ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والی کچھ لاشوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی حملے میں ہلاک نہیں ہوئے بلکہ انہیں مارا گیا تھا۔

کیا سیز فائر کی امید ہے؟

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کے دن عوامی سطح پر اس اسرائیلی منصوبے کا تذکرہ کیا تھا، جس میں جنگ ختم کرنے کے بدلے میں یرغمالیوں کی رہائی کی بات کی گئی ہے۔ تاہم امریکی ثالثی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا، جب اسرائیلی حکومت نے اصرار کیا کہ وہ حماس کو 'نیست و نابود‘ کرنے تک جنگ جاری رکھے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کو اپنی کابینہ میں شامل کٹر قوم پرست یہودی سیاستدانوں کی سخت ناراضی کا سامنا ہے۔ امریکی ثالثی میں سیز فائر کی ڈیل منظور کرنے کی صورت میں نیتن یاہو کی کابینہ نے ان کی حکومت گرا دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔ ان کی کابینہ کے زیادہ تر ارکان حماس کی مکمل تباہی تک موجودہ لڑائی کو جاری رکھنے پر مصر ہیں۔

رفح میں اسرائیلی بمباری اور دو بدو لڑائی

’امریکہ کی بے عملی‘ اور چین کے پاس عرب دنیا میں قدم جمانے کا موقع

فلسطینی عسکریت پسند گروہ حماس البتہ اس جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے اور کسی بھی ڈیل کی تحت وہ غزہ پٹی سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا پر بضد ہے۔ امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ  سیز فائر منصوبے میں البتہ ایسا کوئی واضح تذکرہ نہیں کہ حماس کو غزہ کا انتظام چلانے سے روک دیا جائے گا یا اس عسکری گروہ کو تباہ کر دیا جائے گا۔

دریں اثنا غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ غزہ پٹی میں حماس کے طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران اب تک مجموعی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً چھتیس ہزار پانچ سو ہو چکی ہے جن میں بہت بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔

ع ب/ ک م، م م (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز)

غزہ پٹی میں امدادی سامان پہنچانا مشکل کیوں؟

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں