1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Symbolbild Hören mit Kopfhörern auf dem Handy
تصویر: Blend Images/Bildagentur-online/picture alliance
صحتعالمی

ایک ارب نوجوانوں کی قوت سماعت متاثر ہونے کا خدشہ، تحقیق

27 نومبر 2022

ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں نوجوانوں کا مختلف صوتی آلات کا غیر محفوظ استعمال ان کی قوت سماعت کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ سماعت کے نقصان کا خطرہ شور کی بلندی، دورانیے اور ارتعاش پر منحصر ہے۔

https://p.dw.com/p/4JzvF

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں نوجوانوں کی تقریباً ایک چوتھائی تعداد تجویز کردہ حد سے زیادہ بلند سطح پر موسیقی سنتی ہے، جس سے ان کے بہرے ہونے کا خطرہ ہے۔میڈیکل یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو اور تحقیقاتی مطالعے کی مصنفہ لارین ڈیلارڈ نے ڈی ڈبلیوکو بتایا، ''ہمارا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ سماعت کے غیر محفوظ طریقے نوجوانوں میں عام ہیں، جس کی وجہ سے ایک ارب سے زائد نوجوانوں کو مستقل سماعت سے محرومی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''شور کی وجہ سے قوت سماعت کو پہنچنے والا نقصان ناقابل واپسی ہے اور ہمیں سماعت کے نقصان کو روکنے کے لیے حکمت عملی پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

پاکستان میں کانوں کی بیماریوں میں اضافہ لیکن حکام کان دھرے پر تیار نہیں

Symbolbild Hören mit Kopfhörern a
نوجوانوں اور اسکول کے بچوں میں تجویز کردہ حد سے اونچی سطح پر میوزک سننے کا خطرناک رجحان پایا جاتا ہے تصویر: YAY Images/IMAGO

ایک بلین نوجوانوں کی قوت سماعت متاثر ہونے کا خدشہ

بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع ہونے والا یہ مطالعہ ایک منظم جائزہ اور میٹا تجزیہ تھا۔  اس کےمصنفین نے شور کی نمائش اور غیر محفوظ سننے سے متعلق 33 مطالعات کا جائزہ لیا، جس میں انیس سے چونتیس سال کی عمر کے 19,000 سے زیادہ افراد شامل تھے۔

دلارڈ نے کہا، ''ہم آواز کی بلندی اور شور کے دورانیے کے لحاظ سے غیر محفوظ سماعت کی تعریف کرتے ہیں۔ ہیڈ فون یا ایئر پوڈ کے ساتھ جوڑا ہوا کوئی بھی آلہ جوسماعت کے لیے محفوظ ہونےکی قابل اجازت حد سے تجاوز کرتا ہے وہ لوگوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘‘

اس مطالعے میں اندازہ لگایا گیاکہ 24 فیصد بالغ نوجوانوں کو اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ جیسے ذاتی آلات سے زیادہ شور کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ 12 سے 34 سال کی عمر کے 48 فیصد لوگوں کو موسیقی کے مقامات پر  شورکی غیر محفوظ سطح کا سامنا کرنا پڑا۔ مطالعے کے دائرہ کارکو عالمی آبادی تک پھیلاتے ہوئے یہ اندازہ لگایا گیا کہ  دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد کو سننے کی عادتوں سے سماعت کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

غیر فعال تمباکو نوشی بہرے پن کا سبب

ہر عمر کے افراد کو سماعت کے نقصان کا خطرہ

اگرچہ اس مطالعے میں کا فوکس  نوجوانوں کو سماعت سے متعلق لاحق خطرات پر تھا، تاہم تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہر عمر کے لوگوں کو ان کی سننے کی عادتوں سےسماعت کے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ سماعت کے نقصان کا خطرہ شور کی بلندی، دورانیے اورارتعاش پر منحصر ہے۔ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انیس سے انتیس  سال کی عمر کے لوگ ہفتے میں اوسطاﹰ سات گھنٹے آٹھ منٹ ہیڈ فون استعمال کرتے ہیں جبکہ  تیس سے انچاس سال کی عمر کے لوگ ہفتے میں ساڑھے پانچ گھنٹے اور پچاس سے اناسی  سال کی عمر کے لوگوں میں ہیڈفون کے استعمال کا یہ دورانیہ  پانچ گھنٹے اور دو منٹ ہے۔

لوگ اکثر آلات پر 105 ڈیسیبل تک آڈیو سنتے ہیں اور تفریحی مقامات پر آواز کی اوسط بلندی کی سطح 104 سے 122 ڈیسیبل تک ہوتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے رہنما خطوط کے مطابق ہر ہفتے دس سے پندرہ منٹ تک ان سطحوں پر شور کی آوازیں سننے کی محفوظ سطح سے زیادہ ہے۔

Symbolbild Islam Muslime Influencer
سننے کی عادات میں تبدیلی اور غیر معیاری ہیڈ فون کا استعمال قوت سماعت کو متاثر کر رہےہیںتصویر: imago images/Westend61

اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں سماعت کو پہنچنے والے نقصان کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ بہر حال  لارین ڈیلارڈ نے اس بات پر زور دیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ شور کی آوازکے مجموعی اثر کی وجہ سے نوجوان لوگوں کو زیادہ خطرات ہوتے ہیں اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا،''ہر عمر کے لیے سماعت کے نقصان سے بچاؤ کو ترجیح دینا ضروری ہے لیکن یہ خاص طور پر اہم ہےکہ زندگی کے شروعات میں سماعت کے نقصان کو کم کیا جائے تاکہ یہ پھیل نہ سکے اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید خراب ہو جائے۔‘‘

کیا  سننےکے جدید آلات قصوروار ہیں؟

 1950ء کی دہائی سے ہی لوگ اونچی آواز میں موسیقی کے سماعت پر اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ تو اب کیا فرق آیا ہے؟ کیا سننے کے آلات اور کنسرٹ پہلے سے زیادہ بلند آواز میں ہوتے ہیں؟

ڈیلارڈ کے مطابق ایسا نہیں ہےکہ موسیقی زیادہ بلند ہو گئی ہے بلکہ  صوتی آلات کی دستیابی اور انہیں سننے میں صرف ہونے والے وقت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ''اسمارٹ فونز اب دنیا بھر میں بہت عام ہیں، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اونچی آواز میں موسیقی کا سامنا کر سکتے ہیں۔‘‘

ہیئرنگ آسٹریلیا کی پرنسپل آڈیولوجسٹ کیرن ہرشاؤسن نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ٹیکنالوجی اور کام کی زندگی کے توازن میں تبدیلیاں سننے کی عادات کو متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''بلیو ٹوتھ کنیکٹیویٹی کی سہولت کے ساتھ پچھلی دہائی کے دوران صوتی آلات معاشرے میں زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔ گھر سے کام کرنے والے لوگوں میں اضافے نے بھی ممکنہ طور پر ہیڈ فون کے استعمال کی بلند شرح میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘

Symbolbild Lasershow im Konzert
کنسرٹ میں ائیر پلگ کا استعمال قوت سماعت کی حفاظت کر سکتا ہےتصویر: kiriak/IMAGO

اپنی سماعت کی حفاظت کیسے کریں؟

شور کی وجہ سے سماعت کا نقصان مستقل ہے اور ماہرین سماعت نے خبردار کیا ہےکہ آج کے دور میں سماعت کی عادات عالمی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ہرشاؤزن نے کہا، '' برسوں کی زیادہ سماعت سے قبل اس کی روک تھام کی کوششیں زیادہ مؤثر ہیں۔‘‘

سننے کے مختلف آلات  پر آواز کو زیادہ سے زیادہ کی سطح سے ساٹھ فیصد نیچے رکھیں۔ شور والی جگہوں پر ایئر پلگ لگا کر اپنے کانوں کی حفاظت کریں اور تیز آواز کے ذرائع سے دور رہیں۔ شور مچانے والی سرگرمیوں میں صرف ہونے والے وقت کو محدود کریں۔ تیز آوازوں سے دور مختصر وقفے لیں اور ذاتی سننے والے آلات کے روزانہ استعمال کو محدود کریں۔ اپنے فون پر بلٹ ان محفوظ سننے کی خصوصیات کے ذریعے یا آواز کی نگرانی کے لیے ایپس کا استعمال کرکے سننے کی سطح کی نگرانی کریں۔ اپنی سماعت کی جانچ کریں۔ اگر آپ کی رسائی کسی پیشہ وار صوتی ماہر تک نہیں تو پھر آپ ہئیرڈبلیو ایچ او سمیت دیگر توثیق شدہ سماعت  کی ایپس استعمال کریں۔

 ش ر⁄ ع ت (فریڈ شوالر)

جدید اور چھوٹے سائزکے آلات سماعت

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan | Imran Khan | ehemaliger Premierminister

توشہ خانہ ریفرنس: عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں