ایم کیو ایم اور پی ایس پی: اتحاد اور پھر ’علیحدگی‘ | حالات حاضرہ | DW | 10.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایم کیو ایم اور پی ایس پی: اتحاد اور پھر ’علیحدگی‘

ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اتحاد کا اعلان کیا گیا مگر چوبیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں ایک طرح سے راہیں علیحدہ بھی ہو گئیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد کا اعلان کیا تھا۔ اس پریس کانفرنس میں عندیہ دیا گیا تھا کہ آئندہ انتخابات میں’ایک منشور، ایک نشان اور ایک پارٹی‘ کے تحت حصہ لیا جائے گا، تاہم چند ہی گھنٹوں بعد یہ تمام نقشہ اس وقت الٹا دکھائی دیا، جب فاروق ستار نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں پارٹی اور سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مفاہمتی عمل پر پارٹی کارکنان کی جانب سے ان کی ’نیت‘ پر شک کیا گیا ہے اور ایسی صورت میں وہ ایم کیو ایم پاکستان کی سربراہی نہیں کر سکتے۔

تاہم اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک مرتبہ انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے پارٹی قیادت دوبارہ سنبھال لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کے رہنماؤں کے اصرار پر وہ دوبارہ جماعت کی قیادت سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی پی ایس پی اور تمام جماعتوں کو مفاہمت کی دعوت دیتے ہیں، تاہم ایم کیو ایم اپنا پرچم، نام اور انتخابی نشان قائم رکھے گی۔

تاہم اس تیز رفتار پیش رفت پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

بعض افراد کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان کی عسکری اسٹیبلشمنٹ دباؤ ڈال کر ان دونوں جماعتوں کو اتحاد پر مجبور کر رہی ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارف سید علی عباس زیدی کے مطابق، ’’پی ایس پی اور ایم کیو ایم کا ’مرجر‘ دنیا کی سب سے بڑی زبردستی کی شادی ہے۔‘‘

پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے تاہم کراچی کی ان دونوں جماعتوں کے اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس اتحاد پر خوشی ہے۔ ٹوئٹر پر ہی انہوں نے اپنا ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف سحرش کنول کے مطابق، ’’ایک ڈرامہ جو کل شروع ہو تھا، وہ آج ایک بھیانک انجام کے ساتھ ختم ہو گیا۔‘‘