ایشیا میں کئی ملین انسانوں کا کوئی وطن ہی نہیں، لیکن کیوں؟ | حالات حاضرہ | DW | 27.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایشیا میں کئی ملین انسانوں کا کوئی وطن ہی نہیں، لیکن کیوں؟

براعظم ایشیا کے مختلف ممالک میں کئی ملین انسانوں کا کوئی وطن ہی نہیں ہے۔ ایسے لاکھوں انسان عام طور پر کسی بھی طرح کے شہری حقوق یا سماجی تحفظ کے بغیر زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

دنیا کے دیگر خطوں کی طرح ایشیائی ریاستوں میں بھی جو تنازعات پائے جاتے ہیں، وہ بھی کئی ملین انسانوں کی بے وطنی کی وجہ بنے ہیں لیکن اس بے وطنیت کی جڑیں ایشیا کے نوآبادیاتی ماضی تک بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں اس وقت تقریباﹰ دو ملین انسان اپنی بھارتی شہریت تسلیم کروانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

گزشتہ ماہ اگست میں آسام کی ریاستی حکومت نے طویل بحث اور ایک بہت متنازعہ عمل کی تکمیل پر شہریوں کا وہ قومی رجسٹر یا این آر سی شائع کر دیا، جو دراصل اس ریاست کے تسلیم شدہ شہریوں کی فہرست ہے۔ آسام کی آبادی 31 ملین ہے اور اس رجسٹر میں جن لوگوں کے نام شامل نہیں ہیں، انہیں سرکاری طور پر 'غیر قانونی تارکین وطن‘ سمجھا جاتا ہے۔

اس عمل کا المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا درخواست دہندہ، جو یہ ثابت نہ کر سکے کہ وہ 24 مارچ 1971ء سے پہلے بھی آسام میں رہائش پذیر تھا، اس کی ریاستی شہری کے طور پر قانونی حیثیت کو 'مشکوک‘ سمجھا جاتا ہے۔ 1971ء میں 24 مارچ وہ تاریخ تھی، جسے موجودہ بنگلہ دیش کی سابقہ مشرقی پاکستان کے طور پر اس دور کی پاکستانی ریاست سے آزادی کی جنگ کا نقطہ آغاز قرار دیا جاتا ہے۔

 

تب سابقہ مشرقی پاکستان میں جو جنگ ہوئی تھی، اس سے بچنے کے لیے اور پھر موجودہ پیپلز ریبپلک بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے فوری بعد اندازہﹰ تقریباﹰ 10 ملین شہری بنگلہ دیش سے نکل کر بھارت میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ ان تقریباﹰ ایک کروڑ انسانوں کی بعد کی نسلوں کے بہت سے لوگ آج بھی بھارت میں مقیم ہیں۔

بھارت اور میانمار کے مابین مماثلت

اب آسام میں اس بھارتی ریاست کے تقریباﹰ دو ملین باسیوں کو یا تو ملک بدر یا پھر حراستی مراکز میں بند کر دیے جانے کا خطرہ ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آٹھ ستمبر کو اپنے دورہ آسام کے دوران یہ اعلان بھی کر دیا تھا، ''بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ان در اندازوں کو ایک ایک کر کے اٹھائے گی اور انہیں  خلیج بنگال میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘

اس بارے میں اقوام متحدہ کی ایک سابقہ خاتون اہلکار اور بھارتی ماہر سماجیات انورادھا سین مکرجی نے کئی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ایک مشترکہ بلاگنگ پلیٹ فارم The Conversation پر لکھا ہے، ''اس بات کا قوی امکان ہے کہ آسام میں این آر سی کی تکمیل کا عمل بے وطنی کی حالت سے جڑے ایسے انتہائی تکلیف دہ مصائب کا سبب بنے گا، جو بہت عرصے تک جاری رہیں گے۔‘‘

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کا اعلان اور انورادھا سین مکرجی کی تنبیہ اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ روہنگیا نسلی اقلیت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو سرکاری طور پر 'بنگالی‘ کہا جاتا ہے، اور یوں اس بیانیے کو تقویت دی جاتی ہے کہ یہ لاکھوں انسان وہ غیر قانونی تارکین وطن اور ان کی نئی نسلیں ہیں، جو بنگلہ دیش سے میانمار گئے تھے۔

دنیا کی سب سے زیادہ تعاقب کا شکار نسلی اقلیت

روہنگیا باشندوں کو پوری دنیا میں سب سے زیادہ تعاقب کا شکار نسلی اقلیت سمجھا جاتا ہے۔ یہ لاکھوں انسان حقیقت میں بے وطن ہیں۔ کئی بین الاقوامی ماہرین اور اقوام متحدہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان لوگوں کے مصائب میں ان کی بے وطنیت کے باعث بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ 2017ء میں میانمار کی ریاست راکھین میں ایسے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو پرتشدد انداز میں ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا عمل اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا، جس کے بعد سے لاکھوں روہنگیا مہاجرین آج بھی ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ راکھین میں روہنگیا آبادی کی اس جبری بے دخلی کو اقوام متحدہ نے 'نسلی تطہیر‘ بھی قرار دے دیا تھا۔

بے وطنیت کی جڑیں

یورپی نوآبادیاتی حکمرانوں کی آمد سے قبل ایشیا میں کسی ایسی قومی ریاست کا تصور موجود ہی نہیں تھا، جہاں کوئی خاص اکثریت واضح طور پر تعین کردہ جغرافیائی سرحدوں کے اندر رہتی ہو۔ تب علاقائی سطح پر ترک وطن عام تھا اور مختلف بااثر بادشاہتوں اور خود مختار نوابی ریاستوں کے مابین سرحدیں ڈھیلی ڈھالی اور غیر واضح تھیں۔

ایشیا میں نیشن اسٹیٹ کا تصور یورپی نوآبادیاتی حکمرانوں نے متعارف کرایا، اس دور میں جب آج کے بہت سے آزاد اور خود مختار ایشیائی ممالک ابھی یورپی نوآبادیاتی سلطنتوں کا حصہ تھے۔ ان میں سے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار (1937ء تک) برٹش انڈیا کا حصہ تھے، جو ایک برطانوی نوآبادی تھی۔

اس دور میں ترک وطن یا علاقائی نقل مکانی کو اس لیے بھی ترک وطن نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ سب کچھ بہت وسیع و عریض برٹش انڈیا کے اندر ہی ہو رہا ہوتا تھا۔ برطانوی راج نے تو اپنے طور پر ترک وطن کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی کیونکہ یہ اس کی 'تقسیم کرو اور حکمرانی کرو‘ کی حکمت عملی کا حصہ بھی تھا اور اس طرح بڑے بڑے نوآبادیاتی منصوبوں کے لیے سستے مزدور بھی آسانی سے دستیاب ہو جاتے تھے۔

بنگلہ دیش کا، لیکن الگ تھلگ 'روہنگیا جزیرہ‘

خلیج بنگال میں 20 برس سے بھی کم عرصہ پہلے اچانک وجود میں آنے والے ایک جزیرے کا نام بھاشن چار یا 'تیرتا ہوا جزیرہ‘ ہے، جو ملکی ساحلوں سے تقریباﹰ 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ جزیرہ ہر سال مون سون میں زیادہ تر پانی میں ڈوب جاتا ہے اور وہاں کوئی سڑکیں وغیرہ بھی نہیں ہیں۔

اب لیکن ڈھاکا حکومت میانمار سے آنے والے کئی لاکھ روہنگیا مہاجرین میں سے تقریباﹰ ایک لاکھ کو بہت زیادہ آبادی والے علاقے کوکس بازار سے نکال کر اس جزیرے پر آباد کرنا چاہتی ہے۔ آج کل وہاں اس منصوبے پر عمل درآمد کی تیاریوں اور روہنگیا مہاجرین کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی پر کام ہو رہا ہے۔

شہریت دیے جانے کے عمل میں مسائل

دوسری عالمی جنگ کے بعد 1947ء میں جب بھارت اور (موجودہ بنگلہ دیش سمیت) پاکستان کو آزادی ملی تو ایشیا میں ترک وطن اور نقل مکانی کا بہت بڑا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر تاریخ سنیل امرت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب سلطنتیں ٹوٹیں، اور ریاستی سرحدوں کا نئے سرے سے تعین ہوا، تو کروڑوں انسان مہاجر ہو گئے تھے۔ اس طرح نئی سرحدوں کے اندر بہت سے چھوٹی چھوٹی اقلیتیں وجود میں آ گئی تھیں۔‘‘

اس نقل مکانی کے حوالے سے کوئی مصدقہ اور تاریخی اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں لیکن عمومی اندازے یہ ہیں کہ برٹش انڈیا کی تقسیم کے وقت آزاد ممالک کے طور پر پاکستان سے بھارت اور بھارت سے پاکستان جانے والے مہاجرین کی تعداد دونوں میں سے ہر ایک واقعے میں 10 ملین سے لے کر 12 ملین تک رہی تھی۔

مجموعی طور پر اس دوران پورے ایشیا میں ثقافتی اور لسانی سطح پر آپس میں مربوط خطوں کی دھڑا دھڑا تقسیم سے بھی ایسی ریاستیں وجود میں آئیں، جو کثیرالنسلی اور کثیرالمذہبی ریاستیں تھیں۔ خاص کر 1945ء سے لے کر 1950ء تک کے عرصے میں قائم ہونے والی نئی ریاستوں کو جلد از جلد شہریت سے متعلق نئے قوانین اپنانا تھے۔ ان ممالک نے انتہائی معمولی یا کسی بھی ترمیم کے بغیر ہی زیادہ تر وہی قوانین اپنا لیے، جو پہلے سے موجود اور نوآبادیاتی طاقتوں کے بنائے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے بھی شہریت سے متعلقہ قوانین کے باعث کئی مسائل پیدا ہو گئے تھے۔

بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کرنے سے احتراز

جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں آج بھی کئی ملین انسانوں کے پاس ایسی قانونی دستاویزات موجود ہی نہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی مقامی شہریت ثابت کر سکیں۔ وہ جنہیں بے وطن سمجھا یا قرار دیا جاتا ہے، زیادہ تر ترک وطن یا نقل مکانی کے پس منظر والے ایسے غریب انسان ہوتے ہیں، جن کی اپنی کوئی زمینیں یا دیگر املاک  بھی نہیں ہوتیں۔

براعظم ایشیا میں موجودہ سیاسی ماحول بھی کئی ملین انسانوں کے بےوطن ہونے کی ایک وجہ ہے۔ مثال کے طور پر بھارت، بنگلہ دیش اور میانمار نے آج تک اقوام متحدہ کے ان تین کنوینشنوں میں سے کسی ایک پر بھی دستخط نہیں کیے، جن کا مقصد مہاجرین اور بے وطن انسانوں کو تحفط فراہم کرنا ہے۔

روڈیون ایبِگ ہاؤزن (م م / ک م)

DW.COM