ایردوآن کے حق میں مظاہرہ، جرمنی میں تناؤ | حالات حاضرہ | DW | 29.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایردوآن کے حق میں مظاہرہ، جرمنی میں تناؤ

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے جرمنی میں موجود ہزارہا حامیوں نے اتوار 31 جولائی کو کولون شہر میں ایک مظاہرے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ تاہم ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد کی صورتحال کے باعث جرمن حکام مشکلات کا شکار ہیں۔

ترک تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد جرمنی میں آباد ہے۔ ترکی میں 15 جولائی کی شب ناکام فوجی بغاوت کے بعد جرمنی میں آباد ترکوں میں سے ایردوآن کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان کئی بار تصادم ہو چکا ہے۔ ایردوآن نواز افراد ایسے کئی مقامات پر ہلہ بول چکے ہیں جو امریکا میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے حامیوں میں معروف ہیں۔ اس کے علاوہ ایردوآن پر تنقید کرنے والے افراد کو یہ شکایات بھی ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا پر نہ صرف گالی گلوچ کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ انہیں دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ ترک حکومت ناکام فوجی بغاوت کی ذمہ داری فتح اللہ گولن پر عائد کرتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار کے روز کولون میں ہونے والے مظاہرے میں قریب 30 ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اس مظاہرے کی کال ایردوآن نواز ایک گروپ ’دی یونین آف یورپیئن ترکش ڈیموکریٹس‘ (UETD) کی طرف سے دی گئی ہے۔

جرمنی میں قریب 30 لاکھ ترک آباد ہیں۔ ان کی کُل آبادی کا قریب ایک تہائی جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں آباد ہے اور کولون شہر اسی ریاست میں واقع ہے۔ ایردوآن نواز تُرک باشندوں کے اس مارچ سے قبل سکیورٹی سروسز اب اس پریشانی میں مبتلا ہیں کہ مارچ میں شریک افراد کی فتح اللہ گولن کے حامیوں کے ساتھ کسی قسم کی جھڑپوں کا کوئی امکان نہ ہو۔

کولون پولیس کے سربراہ کے مطابق کسی قسم کے تشدد کی صورتحال کو سختی سے نمٹا جائے گا

کولون پولیس کے سربراہ کے مطابق کسی قسم کے تشدد کی صورتحال کو سختی سے نمٹا جائے گا

کولون پولیس کے سربراہ یوئرگن ماتھیس نے متنبہ کیا ہے، ’’ایک چیز جو میں بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی بھی قسم کا کوئی تشدد ہوا تو ہم فوری، فیصلہ کن اور طاقت کے ساتھ مداخلت کریں گے۔‘‘

کولون پولیس کی طرف سے اتوار 31 جولائی کو ہونے والے مارچ کے موقع پر امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے دو ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے جن میں متعدد ایسے افسران بھی شامل ہوں گے جو ترک زبان بول سکتے ہیں۔

جرمنی میں آباد ترک باشندوں کے درمیان یہ تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمنی اور ترکی کے مابین تعلقات پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان یہ تناؤ کی ایک وجہ جرمن پارلیمان کی طرف سے ایک قرار داد کی منظوری بھی ہے جس میں پہلی عالمی جنگ کے دوران اُس وقت کی سلطنت عثمانیہ کی طرف آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا گیا تھا۔ ترک حکومت اس قتل عام کو نسل کشی ماننے سے انکاری ہے۔

اشتہار