ایران پر حملہ ہوا تو ’بھرپور اور کھلی جنگ‘ ہو گی، جواد ظریف | حالات حاضرہ | DW | 19.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران پر حملہ ہوا تو ’بھرپور اور کھلی جنگ‘ ہو گی، جواد ظریف

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملوں کے تناظر میں اگر ایران پر کوئی فوجی حملہ کیا گیا، تو اس کا نتیجہ ایک ’بھرپور اور کھلی‘ جنگ کی صورت میں نکلے گا۔

سعودی تیل تنصیبات پر ڈرونز اور میزائلوں سے کیے گئے ان حملوں کی ذمے داری یمن کی ایران نواز حوثی شیعہ ملیشیا قبول کر چکی ہے مگر ریاض حکومت اور امریکا ان حملوں کا الزام ایران پر لگاتے ہیں، جب کہ ایران ایسے الزامات کی پرزور تردید کر چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں دبئی سے جمعرات انیس ستمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے آج کہا کہ خلیجی عرب بادشاہت سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ان حملوں کو بنیاد بنا کر، جن سے تہران سے کوئی تعلق نہیں تھا، اگر ایران پر کوئی حملہ کیا گیا، تو اس کا نتیجہ صرف ایک 'بھرپور اور کھلی جنگ‘ کی صورت میں ہی نکلے گا۔

محمد جواد ظریف کے اس تازہ بیان سے خلیج فارس کے علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی اس لیے مزید بڑھ گئی ہے کہ ایران کے سعودی عرب اورا مریکا کے ساتھ پائے جانے والے اختلافات میں حالیہ شدت کے دوران کسی ایرانی رہنما کی طرف سے کی جانے والی یہ 'سخت ترین تنبیہ‘ ہے۔

جواد طریف کا یہ تازہ ترین بیان اس پس منظر میں بھی انتہائی اہم ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ابھی ایک روز قبل ہی سعودی عرب جاتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے ایک 'جنگی اقدام‘ تھے۔

ظریف کا ٹھوس لیکن مختصر جواب

اس بارے میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی طرف سے ایرانی وزیر خارجہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر سعودی عرب یا امریکا نے ایران پر کوئی حملہ کیا تو اس کا انجام کیا ہو گا، اس پر جواد ظریف کا ٹھوس لیکن بہت مختصر جواب تھا، ''ایک بھرپور جنگ۔‘‘ ساتھ ہی ظریف نے یہ بھی کہا، ''ہم ایران کے ریاستی علاقے کا دفاع کرنے میں پلک جھپکنے کی بھی دیر نہیں کریں گے۔‘‘

گزشتہ ہفتے کے روز تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کی جن دو تنصیبات پر درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کیے گئے تھے، ان کے بعد سے اس ملک کی تیل کی یومیہ پیداوار کم ہو کر تقریباﹰ نصف رہ گئی ہے اور اسے روزانہ سینکڑوں ملین ڈالر کا مالی نقصان ہو رہا ہے۔

ان حملوں کی اطلاع ملتے ہی امریکی وزیر خارجہ نے کوئی دیر کیے بغیر یہ کہہ دیا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے ایران ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایرانی حکومت نے اپنے طور پر ان الزامات کی تردید بھی کر دی تھی کہ ان حملوں میں تہران کسی بھی طرح ملوث تھا۔

امریکا سعودی عرب کے ساتھ ہے، پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آج جمعرات کو جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ایک ملاقات کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ سعودی عرب پر کیے گئے ایسے حملوں کی ماضی میں کوئی مثال موجود ہی نہیں ہے۔

پومپیو نے لکھا، ''امریکا سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ ایرانی حکومت کے دھمکی آمیز رویے کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ امریکی وزیر خارجہ نے تاہم اپنی اس ٹویٹ میں یہ وضاحت نہ کی کہ ان کی اپنے اس بیان سے کیا مراد ہے کہ 'ایران کے دھمکی آمیز رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔

جہاں تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے، تو انہوں نے ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے جواب میں کسی جوابی فوجی کارروائی کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

م م / ع ت (اے پی)

DW.COM