ایران: نوجوانوں کو سیکس سے متعلق تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ | معاشرہ | DW | 30.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایران: نوجوانوں کو سیکس سے متعلق تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ

ایران میں سیکس یا جنسی تعلقات جیسا موضوع اب شجر ممنوعہ نہیں رہے گا۔ اب اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں اس موضوع سے متعلق خصوصی اسباق شامل کیے جائیں گے تاکہ نئی نسل کو جنسی رویوں سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے۔

انقلاب ایران کی تقریباﹰ چار دہائیوں بعد جنسی تعلقات یا پھر سیکس سے متعلق کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایران کی نوجوان نسل میں شادی کے بغیر جنسی تعلقات کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ سن 2014 میں ایرانی پارلیمانی ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے 82 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ دا اکنامسٹ جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ایران کے نہ صرف نوجوان بالغ جنسی طور پر سرگرم ہیں بلکہ ستر سے اسی فیصد غیر شادی شدہ لڑکیوں کے بھی بوائے فرینڈ ہیں۔ اس رپورٹ میں سکینڈری اسکول کے طالب علموں کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔

 ایران میں کروائے گئے اس سروے میں ایک لاکھ بیالیس ہزار طالب علم شامل تھے۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایران میں پیش کی جانے والی یہ پہلی رپورٹ تھی۔

اس رپورٹ کے بعد سن 2015 کے آغاز میں تہران حکومت نے ملک میں ’غیر اخلاقی ڈیٹِنگ ویب سائٹس‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے شادی سے متعلق ایک سرکاری ویب سائٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ تیس برس سے کم عمر نوجوانوں کو ’مستقل شادی‘ کی طرف راغب ہوں۔ ایران کی آبادی تقریباﹰ 77 ملین نفوس پر مشتمل ہے اور ان میں سے پچپن فیصد افراد کی عمریں تیس برس سے بھی کم ہیں۔

ایران میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات سختی سے منع ہیں جبکہ ملک کے خراب معاشی حالات کی وجہ سے بھی بہت سے ایرانی نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے اور وہ مستقل شادی سےگریزاں ہیں۔

اب ایران میں جنسی تعلیم فراہم کرنے سے متعلق فیصلہ حکومت کی طرف سے کیے گئے ایک ثقافتی کمیشن کی طرف سے کیا گیا ہے، جس کے تحت نصابی کتابوں میں سیکس اور جنسی تعلقات کے حوالے سے بنیادی تعلیم فراہم کی جائے گی۔

اس کمیشن کے ایک رکن غلام علی حداد عادل کا ایسنا نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اب اصطلاح سیکس کوئی ممنوعہ اصطلاح نہیں رہے گی۔‘‘ اسی طرح "خاندانی اور جنسی صحت" کے نام سے ایک نیا سبجیکٹ بھی متعارف کروایا جائے گا۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران میں جنسی موضوعات کو شجر ممنوعہ کی حیثیت حاصل ہے لیکن ملک کی نوجوان نسل مغربی فلموں، انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کی وجہ سے اس حوالے سے کھلی ذہنیت رکھتی ہے۔

ایرانی جوڑوں میں محبت کا فقدان، طلاق کا رجحان

ایران میں ’عارضی شادیوں‘ کے خلاف حکومتی منصوبہ
’بغیرشادی ساتھ‘ کی ترویج کیوں کی، ایرانی عدالت نے میگزین بند کر دیا

DW.COM