ایران میں ریپ اور قتل کے مجرم کو سر عام پھانسی | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں ریپ اور قتل کے مجرم کو سر عام پھانسی

ایران میں جنسی زیادتی کے ایک مجرم کو سر عام پھانسی دے دی گئی ہے۔ اس پر الزام ثابت ہو‍ گیا تھا کہ اس نے ایک سات سالہ بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔

 خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی حکام کے حوالے سے تصدیق کر دی ہے کہ بیالس سالہ اسماعیل جعفرزادہ کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اسماعیل کی سزائے موت پر عملدرآمد بیس ستمبر بروز بدھ اردبیل صوبے کے شہر پارس آباد میں کیا گیا۔ سرعام دی جانے والی اس پھانسی کی ایک ویڈیو بعد ازاں سرکاری نشریاتی ادارے کی ویب سائٹ پر بھی جاری کی گئی۔

نیا ایرانی قانون سزائے موت کے منتظر پانچ ہزار قیدیوں کی زندگی بچا لے گا

سزائے موت دینے میں چین سب سے آگے

سزائے موت سے منشیات کی اسمگلنگ کم نہیں ہوتی، ایرانی عدلیہ

اردبیل کے پراسیکیوٹر ناصر عطابیتی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس مجرم کو سرعام پھانسی دینے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو تحفظ کا احساس فراہم کیا جائے کہ اگر کوئی ایسا جرم کرے گا تو اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ جب چار ماہ قبل ایک سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور اسے قتل کرنے کی خبر عام ہوئی تھی تو ایران بھر میں غم و غصے کی ایک لہر دیکھی گئی تھی جبکہ عوام نے مطالبہ کیا تھا کہ مجرم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

مقامی میڈیا کے مطابق سات سالہ بچی ایتنا اے انیس جون کو لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس گمشدگی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک سخت ردعمل دیکھا گیا تھا۔ ایرانی عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق بعد ازاں اس بچی کی لاش اسماعیل کے گھر کے گیراج سے برآمد ہوئی تھی اور اس نے اقبال جرم کر لیا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اس واردات کو ’دہشت ناک‘ قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر انصاف کی ہدایت جاری کی تھی۔ قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے اس واردات کے ایک ہفتے بعد ہی اسماعیل پر فرد جرم عائد کر دی تھی جبکہ اگست کے اواخر میں اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع ہو گئی تھی۔

ملکی سپریم کورٹ کے گیارہ اگست کو اسماعیل کی سنائی جانے والی سزائے موت کی توثیق کر دی تھی۔ پارس آباد کے استغاثہ عبداللہ طباطبائی کے مطابق اسماعیل نے دو برس قبل ایک خاتون کو قتل کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی تھی۔ اس مقتولہ خاتون کی لاش ابھی تک نہیں ملی ہے۔

ایرانی حکومت سزائے موت پر عملدرآمد کے بارے میں اعداد وشمار جاری نہیں کرتی ہے تاہم انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سن دو ہزار سولہ میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے پانچ ممالک میں ایران بھی شامل ہے۔ اس ادارے کے مطابق ایران میں سب سے زیادہ موت کی سزا منشیات کے ایسے اسمگلروں کو دی جاتی ہیں، جن پر عدالت میں جرم ثابت ہو جاتا ہے۔

DW.COM