ایران میں جاسوسی کے الزام میں ایک اور امریکی گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 03.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران میں جاسوسی کے الزام میں ایک اور امریکی گرفتار

ایرانی حکام نے ایک اور امریکی شہری کو ملک میں جاسوسی اور امریکی فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ مبینہ قریبی تعلقات کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق نزار ذکا نامی یہ ملزم ایک لبنانی نژاد امریکی شہری ہے۔

Symbolbild USA Geheimdienst Überwachung Internet Spionage Datenspionage

ایرانی حکام کے مطابق نزار ذکا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر اور ایک مبینہ جاسوس ہیں

دبئی سے منگل تین نومبر کو موصولہ نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق نزار ذکا کی گرفتاری کی اطلاع اعلیٰ حکام کے بیانات کے حوالے سے آج ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے دی۔ اس ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق نزار ذکا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک ماہر ہیں، جن کی تہران میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد 18 ستمبر کو اچانک گمشدگی کی اطلاع لبنانی ذرائع ابلاغ نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی دی تھی۔

روئٹرز کے مطابق آئی آر آئی بی نے باخبر سرکاری ذرائع کے حوالے سے اس بارے میں آج جو خبر دی، وہ اس امر کی پہلی بالواسطہ سرکاری تصدیق ہے کہ نزار ذکا کو ایران میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس نشریاتی ادارے نے بتایا، ’’نزار ذکا کے امریکی فوج اور خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔‘‘

دبئی سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ایک ایرانی نژاد امریکی شہری سیامک نمازی بھی، جو دبئی میں مقیم ایک کاروباری شخصیت ہیں، اکتوبر کے وسط میں اس وقت سے لاپتہ ہیں، جب وہ اپنے اہل خانہ کو ملنے ایران گئے تھے۔ تاہم روئٹرز کے مطابق سیامک نمازی کی مبینہ گمشدگی یا گرفتاری کی ابھی تک کسی بھی طرح تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کی آج کی اس خبر سے قبل کل پیر کے روز ایران کے انٹیلیجنس کے وزیر محمود علوی نے کہا تھا کہ جیسے جیسے ایران اس ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی تیاریاں کر رہا ہے، جس کے عملی شکل اختیار کر جانے کے بعد ایران میں غیر ملکی کاروباری اداروں پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی، ویسے ہی خفیہ امور کی ایرانی وزارت بھی داخلی طور پر اپنے ہاں یہ بحث جاری رکھے ہوئے ہے کہ ایران میں غیر ملکی اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے کس قسم کے زیادہ مؤثر اقدامات کیے جانا چاہییں۔

اسی دوران ایرانی دارالحکومت سے ملنے والی دیگر رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکام نے کل پیر کے روز دو ایرانی صحافیوں کو بھی گرفتار کر لیا۔ ان گرفتاریوں کی بین الاقوامی سطح پر مذمت بھی کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک صحافی کو مبینہ طور پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی توہین کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے ان گرفتاریوں پر تنقید کر مسترد کر دیا ہے، جو ناقدین کے بقول بظاہر ایران میں مقامی صحافیوں، ادیبوں اور فنکاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات