ایران: فردو میں زیر زمین جوہری تنصیب، مغربی دنیا کی تشویش | حالات حاضرہ | DW | 18.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران: فردو میں زیر زمین جوہری تنصیب، مغربی دنیا کی تشویش

سیٹیلائٹ سے حاصل کردہ تصاوير ميں  فردو کے جوہری پلانٹ پر جاری تعمیراتی کام پر عالمی طاقتوں کو تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ ماکسار ٹيکنالوجيز کی سيٹیلائٹ سے يہ تصاوير گيارہ دسمبر کو لی گئيں۔

 

ایران نے ایک زیر زمین جوہری تنصیب کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے۔ صوبے قُم کے علاقے فردو میں اس تنصیب کی تعمیر ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں تہران اور واشنگٹن کے تعلقات میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔

ایران نے تاہم فردو میں زیر زمین جوہری تنصیب کی تعمیر کے بارے میں عوامی سطح پر اعتراف نہیں کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کی دریافت مغربی دنیا کی طرف سے 2009 ء میں ہوئی تھی اور اس طرح 2015 ء میں عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین طے پائے جانے والے جوہری معاہدے کے پہلے دور سے پہلے ہی مغرب کی طرف سے فردو کی جوہری تنصیب کی نشاندہی کر دی گئی تھی۔

ایران میں اس جوہری تنصیب کی تعمیر کا مقصد ہنوز واضح نہیں ہے تاہم اس پر کسی قسم کا کام امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے صدارتی دور کے باقاعدہ آغاز سے پہلے اور سبک دوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی دور کے آخری دنوں میں نئی تشویش کو جنم دے گا۔

گذشتہ جولائی میں ایران میں نطنز جوہری تنصیب کے مقام پر ایک پراسرار دھماکا ہوا تھا۔  ایران نے اسے تخریب کاری کی کوشش قرار دیا تھا۔

امریکا کے مڈل بری انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹیڈیز سے منسلک 'ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ‘ کے تحقیقی شعبے کے ماہر جیمیز مارٹن کہتے ہیں، ''اس سائٹ پر ہونے والی کسی قسم کی تبدیلی کو ایران کے جوہری پروگرام کی سرگرمیوں کا اشارہ سمجھا جائے گا اور اس سے یہ اخذ کیا جائے گا کہ تہران کا جوہری پروگرام کسی سمت بڑھ رہا ہے۔‘‘

Iran I Atomkraft I Atomanlage Natanz

ایران میں نطنز کی ایٹمی تنصیب۔

فردو کا مقام

فردو کے مقام پر تعمیر کا کام ستمبر میں شروع ہوا تھا۔ خبر رساں ادارے اے پی نے میکسر ٹیکنالوجی سے موصولہ سیٹیلائیٹ تصاویر کے ذریعے بتایا ہے کہ یہ تعمیراتی کام اس جوہری سائٹ کے شمال مغربی کونے میں جاری ہے۔ یہ سائٹ ایرانی شہر قم کے قریب واقع ہے۔ دسمبر 11 کو لی گئی سیٹیلائیٹ تصاویر میں ایک عمارت کی کھدی ہوئی بنیادوں پر کئی ستون نظر آ رہے ہیں۔ ایسے ستون عموماﹰ عمارتوں اہم عمارتوں کو زلزلے سے بچانے کے لیے تعمیر کیے جاتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ کسی ممکنہ فضائی حملے سے بچاؤ کے لیے اس تعمیراتی مقام کو ایک پہاڑ میں نہایت گہرائی میں سرنگ بنا کر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اس کے نزدیک فردو میں قائم دیگر تحقیقی اور ترقیاتی عمارتیں قائم ہیں جو ایک طرح سے اس تنصیب کی حفاظت کا کام بھی کرتی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک عمارت ایران کی'نیشنل ویکیوم ٹیکنالوجی‘ کا مرکز ہے۔ ویکیوم ٹیکنالوجی ایران کے یورینیم گیس سنٹری فیوجز کا ایک بہت ہی اہم جزو ہے جو یورینیم کی افزودگی کا کام انجام دیتا ہے۔   

Iranisches Parlament fordert Urananreicherung bis 20 Prozent

ایرانی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دے کر ایران کو 20 فیصد تک یورینیم افزودگی کی اجازت دے دی۔

   

2015 ء کی جوہری ڈیل

اس ڈیل کے تحت ایران نے فردو کی تنصیب میں یورینیم کی افزودگی روکنے اور اس کی بجائے نیوکلیئر فزکس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر قائم کرنے پر اتفاق کر لیا تھا۔ اس مقام کو ایرانی نیوکلئیر ڈیل کے ضمن میں غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ امریکا ایران سے اس تنصیب کو بند کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ اسے برقرار رکھنا ایران کے لیے ایک سرخ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔

جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد سے ایران نے اس مقام پر یورینیم کی افزودگی کا کام دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ ایران کی یہ تنصیب چاروں طرف سے پہاڑوں سے چھپی ہوئی ہے اور محفوظ تصور کی جاتی ہے اور اسے کے ارد گرد طیارہ شکن توپیں نصب ہیں۔ یہ تنصیب ایک فٹ بال کے میدان کے سائز کی ہے۔ 3 ہزار سینٹری فیوجز کے لیے کافی جگہ ہے۔ امریکی حکام اس شک کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ تنصیب ایران فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ایران اس وقت 4.5 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے جبکہ جوہری معاہدے کے تحت اسے 3.67 فیصد تک کی اجازت تھی۔ ایرانی پارلیمان میں ایک ایسا بل منظور ہو چکا ہے جو ایران کو 20 فیصد تک کی اجازت فراہم کرتا ہے۔

ک م/ ع ت ) ایجنسیاں(

DW.COM