ایران سے رہائی، جرمن صحافی واپس وطن پہنچ گئے | حالات حاضرہ | DW | 20.02.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران سے رہائی، جرمن صحافی واپس وطن پہنچ گئے

ایران سے رہا ہونے کے بعد دو جرمن صحافی جرمن وزیرخارجہ گیڈوویسٹر ویلے کے ہمراہ اتوار کی صبح دارالحکومت برلن پہنچ گئے ہیں۔

مارکوس ہییلوش اور ینز کوخ

مارکوس ہییلوش اور ینز کوخ

جرمن وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں صحافی چار ماہ سے زائد ایران میں قید رہے۔ برلن میں وزرات خارجہ کے دفتر سے جاری ہوئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بلڈ ام زونٹاگ سے وابستہ دونوں جرمن صحافی مارکوس ہیلوش اور ینز کوخ اتوار کی صبح برلن کے ٹیگل ہوائی اڈے پر پہنچے۔

ان دونوں صحافیوں کو دس اکتوبر کو اس وقت تبریز سے گرفتار کیا گیا تھا، جب یہ دونوں مبینہ طور پر زنا اور قتل میں معاونت پر سنگساری کی سزا پانے والی ایرانی خاتون سکینہ اشتیانی کے بیٹے اور اس کے وکیل سے انٹرویو کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ یہ دونوں وزٹ ویزے پر آئے اور انہوں نے صحافت کرنے کی کوشش کی۔ خیال رہے کہ عالمی دباؤ کے نتیجے میں سکینہ کی سزا پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔

NO FLASH Journalisten Jens Koch und Marcus Hellwig

ان دونوں جرمن صحافیوں کو دس اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا

بتایا گیا ہے کہ جرمن وزیر خارجہ ویسٹرویلے نے اپنے دورہ ایران کے دوران ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اور اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ نے جرمن صحافیوں کی رہائی پر ایرانی حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔ جرمن وزیرخارجہ خصوصی طور پر ان صحافیوں کو لینے کے لیے ایران پہنچے تھے۔

اسی اثناء جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی دونوں جرمن صحافیوں کی رہائی پر خوشی کا اظہار کیا،’میں بہت خوش ہوں کہ مارکوس ہیلوش اور ینز کوخ آزاد ہو کر واپس اپنے وطن پہنچ گئے ہیں۔‘ میرکل نے بلڈ ام زونٹاگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’مجھے امید ہے کہ یہ دونوں گزشتہ کچھ ماہ کے دوران کی جسمانی اور ذہنی صعوبتوں کو جلد ہی بھلا دیں گے۔‘

ان دونوں جرمن صحافیوں کو پہلے ایک ایرانی عدالت نے بیس بیس ماہ کی قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں اس سزا کو جرمانے سے بدل دیا گیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM