ایران جوہری معاہدہ:ابھی مشکل ہے ڈگر پنگھٹ کی | حالات حاضرہ | DW | 22.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران جوہری معاہدہ:ابھی مشکل ہے ڈگر پنگھٹ کی

امریکا نے ایران کو پابندیوں میں نرمی کرنے کا اشارہ تو کیا ہے تاہم جوہری معاہدے کے مذاکرات کو منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی طویل راستہ طے کرنا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران سن 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے اتفاق رائے تک پہنچنے سے ابھی کافی دور ہیں۔ صدر جو بائیڈن کو اپنے مقصد کے حصول میں اپوزیشن ریپبلیکن سے بھی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر کہا کہ گوکہ ویانا میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پچھلے دنوں بالواسطہ بات چیت میں ”کچھ پیش رفت" ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان اس بات پر اب بھی اختلافات ہیں کہ مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او اے) کے نام سے مشہور سن 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے ضابطوں پر عمل درآمد کس طرح شروع کیا جائے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی نمائندگی کرنے والے ایک یورپی سفارت کار، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر زور دیا، نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار کا کہنا تھا”اب بھی بہت سے امور پر اختلافات باقی ہے، بعض معاملات تو انتہائی اہم ہیں۔" ان کا مزید کہنا تھا ”ہم ابھی مذاکرات کے نتیجے کے قریب نہیں پہنچے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلے گا، یہ اب بھی غیر یقینی ہے۔“

مذکورہ عہدیدار نے ایک کانفرنس کال کے ذریعہ نامہ نگاروں کو تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ  کیا۔

Iran Atomkraftwerk Bushehr

واشنگٹن اور تہران کے مابین ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے متعدد امور پر اختلافات ہیں۔

اختلافی امور

 امریکی عہدیدار نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں کے حوالے سے اگلے ممکنہ راحتی اقدام کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا۔

آسٹریا کے دارالحکومت میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا باضابطہ شریک نہیں ہے البتہ وہ ثالثوں کے ذریعہ اپنی باتیں پہنچا رہا ہے۔

 ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف حالیہ دنوں میں جو پابندیاں عائد کی ہیں ان کے حوالے سے تین نکات کو اجاگر کیا۔ یہ ہیں وہ پابندیاں جنہیں وائٹ ہاوس ختم کرنے کے لیے تیار ہے، وہ پابندیاں جو وہ نہیں ختم کرے گا اور وہ پابندیاں جن پر مزید غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی عہدیدار نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی پابندیاں کس زمرے میں آتی ہیں تاہم کہا کہ تیسرے زمرے کا معاملہ سب سے پیچیدہ ہے۔ کیونکہ اس میں وہ پابندیاں شامل ہیں جن کے بارے میں موجودہ امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں کا خیال ہے کہ سابقہ ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں صرف اس لیے شامل کیا تھا تاکہ ایران کے لیے حتی الامکان زیادہ سے زیادہ مشکلات پیدا کی جا سکیں۔

Mike Pompeo

مائیک پومپیو نے ایک بل کا مسودہ میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

ریپبلیکن 'زیادہ سے زیادہ دباو‘ کے حق میں

بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ایران کو کسی بھی طرح کی نرمی کی پیشکش کی امریکی کانگریس میں اپوزیشن ریپبلیکن کی جانب سے سخت مخالفت کی جائے گی۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک بل کا مسودہ بھی تیار کیا ہے جسے مائیک پومپیو نے گزشتہ روز میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

اسلامی جمہوریہ کے خلاف پابندیوں میں کسی بھی طرح کی کمی کی اسرائیل کی جانب سے بھی مخالفت یقینی ہے، جو اسے اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ خلیج کی بہت سی ریاستوں کو بھی ایران سے اسی طرح کے خدشات ہیں۔

خیال رہے کہ جے سی پی او اے کے ذریعہ اپنے جوہری پروگرام میں تخفیف کے عوض میں ایران کو اربوں ڈالر کی راحت دی گئی تھی۔ لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں تہران پر 'زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنے‘ کے اپنے اقدام کے تحت امریکا کو اس معاہدے سے یک طرفہ طورپر الگ کرلیا تھا اور نہ صرف ایران پر عائد سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ کردی تھیں بلکہ کچھ نئی پابندیوں کا اضافہ بھی کر دیا تھا۔

ج ا /ص ز (اے پی، روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM