ایران القاعدہ کا نیا گڑھ ہے: امریکا | حالات حاضرہ | DW | 13.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران القاعدہ کا نیا گڑھ ہے: امریکا

امریکی وزیر خارجہ نے کسی ثبوت کے بغیر دعوی کیا ہے کہ شدت پسند گروپ القاعدہ اپنی کارروائیوں کے لیے افغانستان اور پاکستان کے بجائے اپنا نیا اڈہ ایران میں قائم کر چکا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز دعوی کیا کہ شدت پسند گروپ القاعدہ نے ایران میں نیا ٹھکانہ قائم کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپ نے ایران کے اندر اپنے پاوں اس قدر مضبوط کر لیے ہیں کہ امریکا کے لیے اس کے ارکان کو نشانہ بنانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔

مائیک پومپیو نے یہ دعوی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کی اس خبر کے تناظر میں کیا ہے، جس میں کہاگیا تھا کہ القاعدہ کے ایک بڑے لیڈر ابو محمد المصری کو ایران میں گزشتہ برس ایک اسرائیلی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ ایران نے اس خبر کی سختی سے تردید کی تھی۔

واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت میں پومپیو نے کہا، ''ایران میں المصری کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم آج یہاں کھڑے ہیں، القاعدہ کا نیاگھر اب اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔'' تاہم پومپیو نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا، ''ایران حقیقت میں نیا افغانستان ہے،۔۔۔ جغرافیائی اعتبار سے القاعدہ کا ایک نیا مرکز۔ افغانستان کے برعکس، جب القاعدہ پہاڑوں میں چھپا ہوا رہتا تھا، آج القاعدہ ایرانی حکومت کے زبردست تحفظ کے ماحول میں کام کر رہا ہے۔''

ویڈیو دیکھیے 01:06

’ایران سے خطرہ‘، اسرائیل نے میزائل دفاعی نظام فعال کر دیا

انہوں نے مزید کہا، ''تہران شدت پسند گروہوں اور ان کے لیڈروں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے اور دنیا بھر میں آزادنہ روابط استوار کرنے کے لیے اس نے القاعدہ کو چندہ جمع کرنے کی بھی اجازت دے رکھی ہے تاکہ وہ ان تمام کارروائیوں کو پھر سے انجام دے سکے جن کے لیے پہلے وہ افغانستان اور پاکستان کی سرزمین استعمال کیا کرتا تھا۔'' 

ایران کی تردید

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے امریکی ہم منصب کے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ''یہ فرضی خفیہ جانکاری اور جھوٹ پر مبنی جنگی جارحیت جیسی بات ہے۔''

ایران میں شیعہ مکتب فکر کی حکومت ہے جو روایتی طور پر ایسے سنی انتہا پسندگروپوں کا مخالف رہی ہے۔ اس کے برعکس وہ حزب اللہ جیسی شیعہ شدت پسند تنظیموں کا حامی رہا ہے۔ سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیک پومپیو نے ایک بار کہا تھا کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو لگتا ہے کہ ایران نے القاعدہ کے کارکنان کو اپنے ملک میں یرغمال بنا کر رکھا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:53

جنرل سلیمانی کی میت آبائی شہر کرمان پہنچا دی گئی

آخری ایام میں افراتفری پھیلانے کی کوشش

 ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے بیانات ناقابل یقین لگتے ہیں۔ قوینسی انسٹیٹیوٹ کے سربراہ تریتا پارسی نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ ان دعوؤں پر یقین کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''ٹرمپ کی انتظامیہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالتی رہی ہے'' اور اگر اس طرح کے ثبوت تھے تو پھر انہیں پہلے کیوں نہیں پیش کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پومپیو نے ایران کو القاعدہ کے ساتھ مربوط کر کے ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، ''جس سے یہ انتظامیہ اپنے آخر کے چندایام میں ایران پر حملے کا جواز پیدا کر سکے۔'' سن  2002  کے ایک قانون کے مطابق امریکی حکومت کانگریس سے منظوری کے بغیر بھی القاعدہ کے خلاف فوجی آپریشن کر سکتی ہے۔

پارسی کا کہنا ہے کہ پومپیو کے ان دعوں کے پیچھے اصل مقصد ایران کے ساتھ جو بائیڈن انتظامیہ کے لیے سفارتی راستوں کو مزید مشکل بنانا ہے تاکہ ٹرمپ نے جو غلطیاں کی ہیں ان کے لیے ان کی درستگی مزید مشکل ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثی باغیوں کو شدت پسند گروپ قرار دینا بھی اسی سمت میں ایک قدم ہے تاکہ مستقبل میں ان سے بھی بات چیت کے راستے مزید مشکل ہو جائیں۔

ص ز/  ج ا (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)

DW.COM