ایرانی و امریکی قیدیوں کا تبادلہ: ژیو وانگ اور سلیمانی رہا | حالات حاضرہ | DW | 07.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایرانی و امریکی قیدیوں کا تبادلہ: ژیو وانگ اور سلیمانی رہا

ایران اور امریکا نے اپنی اپنی جیلوں میں سے ایک ایک قیدی کو رہائی دے دی ہے۔ قیدیوں کے درمیان تبادلہ ہفتے کے روز مکمل ہوا۔ ایران نے چینی نژاد امریکی قیدی کو رہائی دی ہے۔

ایران نے چینی نژاد امریکی قیدی ژیو وانگ کو رہائی دے دی ہے جب کہ امریکا سے ماہر حیاتیات پروفیسر مسعود سلیمانی رہا کیے گئے ہیں۔ تبادلے کا عمل سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں مکمل ہوا۔ ایران کے لیے امریکی مندوب برائن ہُک اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی تبادلے کے وقت زیورخ میں موجود تھے اور انہوں نے اپنے ملکی سائنسدان کو رہائی پر مبارک دیتے ہوئے استقبال کیا۔ سلیمانی بھی ایرانی حکام کے ہمراہ ہفتے کو کسی وقت اپنے ملک پہنچ جائیں گے۔

وانگ اب سوئٹزرلینڈ سے ابتدائی چیک اپ کے لیے جرمن شہر لانڈشٹول روانہ ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر نے قیدیوں کے تبادلے کے بعد اپنے شہری کی رہائی پر سوئٹزرلینڈ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

سب سے پہلے اس تبادلے کے حوالے سے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ وہ مسرت سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ جلد ہی پروفیسر مسعود سلیمانی اور ژیو وانگ رہائی پانے کے بعد اپنے اپنے خاندان کے ساتھ یکجا ہو جائیں گے۔ انہوں نے ان کی رہائی کی کوششوں میں شریک مختلف فریقوں اور خاص طور پر تہران میں سوئٹزر لینڈ کے سفارت خانے کی کوششوں کو سراہا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات یا روابط موجود نہیں ہیں اور اس باعث ایران کے اندر امریکی مفاد کی نگرانی تہران میں قائم سوئٹزرلینڈ کا سفارت خانہ کرتا ہے۔

ژیو وانگ چینی نژاد امریکی شہری ہیں اور وہ پرنسٹن یونیورسٹی کے گریجوایٹ ہیں۔ انہیں سن 2016 میں ایران میں تحقیقی عمل کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد میں تہران حکومت نے ان پر جاسوسی کے الزامات عائد کر دیے تھے۔

Trump Iran Detainees Austausch Xiyue Wang USA (picture-alliance/AP Photo/H. Qu)

ایران سے رہائی پانے والے ژیو وانگ کی بیوی ہوا شو نے یہ تصویر جاری کی تھی۔

تہران حکومت کے مطابق وانگ ریسرچ کی آڑ میں امریکا کے لیے جاسوسی جاری رکھے ہوئے تھے۔ وانگ کو اسی  الزام میں سن 2017 میں ایک ایرانی عدالت نے دس برس کی قید سزا سنائی تھی۔ پرنسٹن یونیورسٹی اور وانگ کا خاندان ایرانی الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔

ایران کے اسکالر پروفیسر مسعود سلیمانی ہیماٹولوجی اور اسٹیم سیل کے شعبے کے ماہر ہیں۔ انہیں اکتوبر سن 2018 میں شکاگو ایئر پورٹ پر اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ، امریکی حکام کے مطابق ایسا بائیالوجیکل مواد لے جانے کی کوشش میں تھے جو امریکی پابندیوں کے زمرے میں آتا تھا۔ امریکی عدالت میں سلیمانی اور ان کے وکیل نے الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا۔

ع ح ⁄ ا ب ا (ڈی پی اے، روئٹروز)

 

DW.COM