1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایرانی صدارتی الیکشن کے لیے چھ امیدوار کون کون؟

11 جون 2024

ایران میں مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کے جانشین کے انتخاب کے لیے رائے دہندگان 28 جون کو ووٹ دیں گے۔ ملک کی طاقت ور شوریٰ نگہبان نے چھ امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی ہے۔ ان چھ امیدواروں میں کون کون شامل ہے؟

https://p.dw.com/p/4gtXp
ملک کی طاقت ور شوریٰ نگہبان نے چھ امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی ہے
ملک کی طاقت ور شوریٰ نگہبان نے چھ امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی ہےتصویر: Rouzbeh Fouladi/Zuma/IMAGO

ایران میں مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کے جانشین کے انتخاب کے لیے رائے دہندگان 28 جون کو ووٹ دیں گے۔ ملک کی طاقت ور شوریٰ نگہبان نے چھ امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی ہے۔ ان چھ امیدواروں میں کون کون شامل ہے؟

ایران کی طاقت ور گارڈین کونسل یا شوریٰ نگہبان نے چھ امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی ہے۔ یہ امیدوار کون کون ہیں؟

ایران میں چھ علماء اور چھ فقہاء پر مشتمل انتہائی بااختیار سمجھے جانے والے آئینی ادارے شوریٰ نگہبان نے امیدواروں کی پیشہ وارانہ قابلیت اور اسلامی جمہوریہ سے ان کی نظریاتی عقیدت کی جانچ پڑتال کے بعد صرف چھ امیدواروں کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دی ہے۔

گارڈین کونسل نے بہت سے معروف افراد کی درخواستیں خارج کردیں جن میں سابق صدر محمود احمدی نژاد اور سابق پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی بھی شامل ہیں۔

ایران میں چھ صدارتی انتخابی امیدواروں کے ناموں کی منظوری

تجزیہ کاروں کے مطابق جن چھ امیدواروں کو ابراہیم رئیسی کا جانشین بننے کے لیے انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی ہے وہ تقریباً تمام سخت گیر سمجھے جاتے ہیں۔

یہ امیدوار ہیں کون کون؟

محمد باقر قالیباف
محمد باقر قالیبافتصویر: Vahid Salemi/dpa/AP/picture alliance

محمد باقر قالیباف

ایرانی پارلیمان کے موجودہ اسپیکر62 سالہ محمد باقر قالیباف ایک عرصے سے صدر بننے کی امید کررہے ہیں۔ انہوں نے 2005 اور 2013 کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا لیکن ناکام رہے تھے۔ انہوں نے انتہائی قدامت پسند رئیسی کے حق میں 2017 کے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے خود کو الگ کر لیا تھا۔

ایران: صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آغاز

ایران میں صدر رئیسی کی موت کا سوگ

قالیباف خود کو ''اسلامی انقلاب کا سپاہی‘‘ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کے جنرل اور قومی پولیس کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر 2003ء میں ملکی پولیس کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے ایرانی طلبا کے خلاف براہ راست گولیاں چلانے کا حکم دیا تھا۔

وہ 2005 اور 2017 کے درمیان ایرانی دارالحکومت تہران کے میئر بھی رہے ہیں۔

سعید جلیلی
سعید جلیلیتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

سعید جلیلی

اٹھاون سالہ سعید جلیلی کو ایرانی حکومت کے انتہائی قدامت پسند گروپ میں ہردل عزیز شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جلیلی ملک کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار تھے۔ سخت گیر جلیلی اس وقت 'مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ کے رکن ہیں، جسے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی پارلیمنٹ اور گارڈین کونسل کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

قالیباف کی طرح جلیلی نے بھی 2013 میں صدارتی انتخاب لڑا تھا اور رئیسی کے حق میں 2017 میں اپنی امیدواری ترک کر دی تھی۔

امیر حسین غازی زادہ ہاشمی
امیر حسین غازی زادہ ہاشمیتصویر: TASNIM

امیر حسین غازی زادہ ہاشمی

پیشے کے لحاظ سے میڈیکل پریکٹیشنر ڈاکٹر امیر حسین غازی زادہ ہاشمی کو بھی سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔ ہاشمی نے رئیسی کے نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور اس وقت بنیاد شہید و امور ایثار گران (Foundation of Martyrs and Veteran Affairs) کے سربراہ ہیں۔ انہیں 2021 میں صدر کے لیے انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے تقریباً تین فیصد ووٹ حاصل کیے تھے اور سات امیدواروں میں سے چوتھے نمبر پر آئے تھے۔

مسعود پزشکیان
مسعود پزشکیانتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

مسعود پزشکیان

سابق وزیر صحت مسعود پزشکیان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ صدارتی دوڑ میں شامل اپنے حریفوں سے زیادہ اعتدال پسند ہیں۔ اس 69 سالہ رہنما نے 2021 میں انتخاب لڑنے کی کوشش کی تھی لیکن گارڈین کونسل نے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔

پزشکیان کو 2024 میں الیکشن لڑنے کی اجازت دینا حکومت کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ لبرل ووٹرز کو متحرک کر کے ٹرن آؤٹ کو بڑھایا جا سکے۔ تاہم ان کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔

مصطفیٰ پورمحمدی
مصطفیٰ پورمحمدیتصویر: Vahid Salemi/AP Photo/picture alliance

مصطفیٰ پورمحمدی

مصطفیٰ پورمحمدی واحد عالم دین ہیں، جو اس سال صدر کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ 64 سالہ مصطفیٰ نے صدر احمدی نژاد کی حکومت میں 2005 سے 2008 کے درمیان وزیر داخلہ اور 2013 سے 2017 کے درمیان وزیر انصاف کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔

1980 کی دہائی میں انہوں نے انقلابی عدالتوں میں بطور پراسیکیوٹر اور بعد میں بطور ڈپٹی انٹیلیجنس وزیر کام کیا۔ ان کا تعلق مبینہ طور پر سیاسی قیدیوں کو دی جانے والی اجتماعی پھانسیوں سے بتایا جاتا ہے۔

علی رضا زکانی
علی رضا زکانیتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

علی رضا زکانی

اٹھاون سالہ زکانی ایک اور سخت گیر رہنما اور تہران کے موجودہ میئر ہیں۔ گارڈین کونسل نے 2013 اور 2017 میں ان کی صدارتی امیدواری کو مسترد کر دیا تھا۔ 2021 میں انہیں انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن تب انہوں نے ابراہیم رئیسی کے حق میں اپنی امیدواری ترک کر دی تھی۔

کوئی خاتون امیدوار نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کو صدر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایرانی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق 287 افراد نے باضابطہ طور پر صدر کے عہدے کے لیے اپنی امیدواری کی خواہش کا اعلان کیا اور 80 اس انتخابی سسٹم میں ممکنہ امیدواروں کے طور پر رجسٹر کیے گئے تھے۔ ان 80 ممکنہ صدارتی امیدواروں میں چار خواتین بھی شامل تھیں، لیکن گارڈین کونسل نے ان کے نام ممکنہ امیدواروں کی فہرست سے خارج کر دیے تھے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے سیاسی کیریئر کی کہانی

ج ا/م م (شبنم فان ہائن)

https://www.dw.com/a-69321906