ایرانی اور سعودی وفد عراقی کانفرنس میں | حالات حاضرہ | DW | 20.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایرانی اور سعودی وفد عراقی کانفرنس میں

عراقی دارالحکومت بغداد میں ایران اور سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک کے پارلیمانی وفود نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں عراق کے ہم سایہ ممالک مدعو تھے۔

عراق کے ہم سایہ ممالک کے پارلیمانی وفود کی اس کانفرنس میں سعودی عرب اور ایران نے عراق کے استحکام اور امن کے لیے بھرپور مدد کا عندیہ دیا۔ عراق کا ایک بڑا حصہ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے قبضے میں آ گیا تھا، جسے بعد میں عراقی فورسز نے امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے تعاون سے دوبارہ حاصل کیا۔

امریکی سینیٹ سعودی عرب کی فوجی امداد کے خاتمے کی خواہش مند

میونخ کانفرنس ، ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر الزامات

بغداد میں عراق کے ہم سایہ ممالک کے پارلیمانی وفود کے اس اجلاس میں ایران، اردن، کویت، سعودی عرب اور شام شامل تھے۔ ہفتے کے روز ہونے والی اس کانفرنس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عراق کے ہم سایہ ممالک کے پارلیمانی سربراہان عراق میں استحکام اور سالمیت کے علاوہ سماجی اتحاد کے لیے بھرپور معاونت فراہم کریں گے۔

یہ بات اہم ہے کہ اب سے قریب ایک برس قبل عراق نے شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف مکمل فتح کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقائی سلامتی کے لیے عراق میں استحکام نہایت ضروری ہے۔

دسمبر 2017 میں تب کے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے ملک بھر میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف مکمل کامیابی کا اعلان کیا تھا۔ ملک بھر سے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خاتمے میں بغداد حکومت کو تین برس سے زائد عرصہ لگا تھا۔

’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جانب سے اب بھی عراق کے مختلف مقامات پر دہشت گردانہ حملے دکھائی دیتے ہیں اور اس تنظیم کے جہادی مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ عام شہریوں کے اغوا میں ملوث ہیں، تاہم باقاعدہ طور پر عراق کا کوئی علاقہ اس جہادی تنظیم کے قبضے میں نہیں ہے۔

عراق شیعہ اکثریتی ملک ہے، جو خطے کے دو طاقت ور ممالک ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں توازن کا خواہش مند ہے۔  سن 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے نتجے میں صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ایران نے عراق میں اپنے اثرورسوخ میں خاصا اضافہ کیا ہے جب کہ شام اور یمن میں ایران اور سعودی عرب متحارب فریقوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

عراقی حکومت کی خواہش ہے کہ ملک میں تعمیر نو کے کاموں کے لیے اسے مالی مدد بھی دستیاب ہوں، کیوں کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے خلاف بڑی عسکری کارروائیوں کی وجہ سے اضافی مالیاتی بوجھ اور مختلف مقامات پر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیرقبضہ علاقوں میں تباہی کی وجہ سے اسے بحالی کے کاموں کے لیے سرمایے کی اشد ضرورت ہے۔

ع ت، ع ح (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM