ايک دن ميں چھ ہزار سے زائد مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا ليا گيا | حالات حاضرہ | DW | 04.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ايک دن ميں چھ ہزار سے زائد مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا ليا گيا

بحيرہ روم ميں طرابلس کے قريب تين اکتوبر کے دن درجنوں کشتيوں کو ڈوبنے سے بچا ليا گيا اور ايک ہی روز ميں چھ ہزار سے زائد مہاجرين کی جانيں بچا لی گئيں۔ يہ پناہ گزين افريقہ سے يورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تين برس قبل بحيرہ روم ميں اطالوی جزيرے لامپےڈوسا کے قريب کشتی ڈوبنے کے ايک واقعے ميں 366 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ يہ وہی واقعہ ہے، جس کی وجہ سے مہاجرين کا بحران عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اس واقعے کے عين تين سال بعد پير کے روز بحيرہ روم ميں اطالوی کوسٹ گارڈز نے 6,055 افراد کو ڈوبنے سے بچا ليا۔ متعدد غير سرکاری تنظيموں کے مطابق ايک دن ميں انتاليس کشتيوں کو غرق ہونے سے بچايا گيا، جن ميں اکثريتی طور پر افريقی پناہ گزين سوار تھے۔ ريسکيو کی يہ کارروائياں ليبيا کے دارالحکومت طرابلس سے تيس کلوميٹر شمال کی جانب کی گئی تھيں جب کہ ان ميں اطالوی بحريہ، کوسٹ گارڈز، يورپی يونين کی بارڈر ايجنسی فرنٹيکس اور انسانی اسمگلروں کے خلاف سرگرم يورپی يونين کے بحری مشن (Eunavfor Med) کے اہلکاروں نے شرکت کی۔

بچائی جانے والی ايک کشتی پر 720 افراد سوار تھے، جن ميں دو سو بچے بھی شامل تھے۔ ان بچوں ميں سے زيادہ تر نا بالغ تھے اور تنہا سفر کر رہے تھے جبکہ نو کی عمريں پانچ برس سے بھی کم تھيں۔ اس کے علاوہ بچائی جانے والی 191 عورتوں ميں سے کم از کم دس حاملہ ہيں۔ فرانسيسی امدادی تنظيم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کے کوآرڈينيٹر نکولاس پاپاکرائيسوسٹومو کے مطابق، ’’يہ بات ناقابل قبول ہے کہ 2016ء ميں ان لوگوں کے پاس انتہائی خطرناک سمندری راستے اختيار کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہيں۔‘‘

دريں اثناء ليبيا کے کوسٹ گارڈز کے مطابق پير کے روز ايک چھوٹی کشتی ڈوبنے کے نتيجے ميں دو بچے اور نو عورتيں ہلاک بھی ہوئے۔ يہ واقعہ بھی ليبيا کے قريبی سمندر ميں پيش آيا۔

تين برس قبل دو اور تين اکتوبر کی درميانی رات لامپےڈوسا ہی کے قريب رونما ہونے والے ايک واقعے ميں ايک کشتی ڈوب گئی تھی، جس پر پانچ سو افراد سوار تھے۔ اس واقعے  ميں 366 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد اٹلی نے ايک وسيع تر سرچ اينڈ ريسکيو آپريشن شروع کيا، جس ميں بعد ازاں درجنوں بين الاقوامی تنظيموں بھی شامل ہو گئيں۔ نتيجتاً سينکڑوں افراد کو ڈوبنے سے بچا ليا گيا ليکن اسی دوران کم از کم گيارہ ہزار افراد ڈوب کر ہلاک بھی ہو چکے ہيں۔