ايران ميں ملگ گير مظاہرے: حکومتی رد عمل سخت ہو گا، خامنہ ای | حالات حاضرہ | DW | 17.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ايران ميں ملگ گير مظاہرے: حکومتی رد عمل سخت ہو گا، خامنہ ای

ايران ميں ايندھن کی قيمتوں ميں اضافے کے خلاف احتجاج جاری ہے، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھ گيا ہے۔ سپريم ليڈر نے اپنے ايک خصوصی خطاب ميں حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو خبردار کيا ہے۔

ايران کے سپريم ليڈر آيت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے مظاہرين کو 'غنڈے‘ قرار ديتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا عنديہ ديا ہے۔ اتوار کو ٹيلی وژن سے نشر کردہ اپنی ایک تقرير ميں خامنہ ای نے ايندھن کی قيمتوں ميں اضافے اور صارفين کے ليے ايندھن کی ماہانہ حد مقرر کيے جانے کے حاليہ فيصلوں کا دفاع کيا۔ ايرانی رہنما نے اس فيصلے کے خلاف احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر آتش زنی کی وارداتوں پر تنقيد کی اور ايسا کرنے والوں کو خبردار بھی کيا۔

ايران ميں ايندھن کی قيمتوں ميں اضافے اور صارفين کے ليے ايندھن خريدنے کی ماہانہ حد مقرر کيے جانے کے بارے ميں اعلان جمعے کی رات کيا گيا تھا۔ پندرہ نومبر کو ايندھن کی قيمتوں ميں پچاس فيصد اضافے کا اعلان کيا گيا ليکن اس کے باوجود ايران ميں پٹرول کی قيمتيں اب بھی دنيا کے کسی بھی ملک کے مقابلے ميں بہت کم ہيں۔ تہران حکومت کے اس اقدام کے رد عمل ميں ملک گير سطح پر احتجاج اور مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ کئی مقامات پر مشتعل مظاہرين نے سرکاری املاک کو نقصان بھی پہنچايا۔ پرتشدد کارروائيوں ميں کم از کم ايک شخص کے ہلاک اور درجنوں دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انٹرنيٹ پر سامنے آنے والی ويڈيوز ميں کئی افراد کو شديد زخمی حالت ميں بھی ديکھا جا سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ جانی اور مالی نقصانات کی حتمی اطلاعات موصول ہونے پر متاثرہ افراد کی تعداد ميں کافی اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

ايران ميں جاری ان تازہ مظاہروں کے تناظر ميں سپريم ليڈر نے اتوار کو قوم سے اپنے خطاب ميں کہا کہ احتجاج کے دوران جانی اور مالی نقصانات کے پيچھے ملک دشمنوں کا ہاتھ ہے۔ خامنہ ای نے چاليس برس قبل ايران ميں اسلامی انقلاب کے نتيجے ميں اقتدار سے محروم ہو جانے والے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد اور مجاہدين خلق نامی ايک جلا وطن گروپ کے ارکان کو اس 'شر پسندی‘ کا ذمے دار قرار ديا۔ ايرانی ليڈر نے کہا، ''کسی بينک کو آگ لگانا عام شہريوں کا نہيں بلکہ بدمعاشوں کا کام ہے۔‘‘

سپريم ليڈر نے اپنے خطاب کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اپنا کام کريں اور شہريوں پر زور ديا کہ وہ پر تشدد کارروائياں کرنے والوں سے دور رہيں۔ خامنہ ای کے يہ احکامات بظاہر کسی ممکنہ کريک ڈاؤن کا اشارہ بھی ہو سکتے ہيں۔ ايران ميں اقتصادی بدحالی کے خلاف سن 2017 کے اواخر اور سن 2018 کے اوائل ميں ہونے والے عوامی مظاہروں سے بھی سختی سے نمٹا گيا تھا۔ خامنہ ای نے اس بار بھی کچھ ايسا ہی عنديہ ديا ہے، ''سلامتی کا فقدان کسی بھی ملک اور معاشرے کے ليے بد ترين الميہ ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘

دريں اثناء ايران کے کئی حصوں ميں انٹرنيٹ کی فراہمی بھی معطل ہے۔ ايران کے نيم سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے بتايا گيا ہے کہ سپريم نيشنل سکيورٹی کونسل نے ملگ گير سطح پر انٹرنيٹ تک رسائی بند کرنے کے احکامات جاری کر ديے ہيں۔

ايران ميں تازہ عوامی مظاہروں سے حکومت پر دباؤ بھی بڑھ گيا ہے۔ تہران حکومت امريکی اقتصادی پابنديوں کے سبب پہلے ہی کافی دباؤ ميں ہے۔ ايندھن کی قيمتوں ميں اضافہ اس ليے کيا گيا تھا کہ اضافی آمدنی سے غريب افراد کی مدد کی جا سکے۔ ايران خام تيل کے چوتھے سب سے بڑے ذخائر کا حامل ملک ہے اور عوام کم قيمت پٹرول کو اپنا 'پيدائشی حق‘ سمجھتے ہيں۔ يہی وجہ ہے کہ قيمتوں ميں اضافے پر عوامی سطح پر غم و غصہ پايا جاتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:01

جوہری معاہدے سے امريکا کی دستبرداری: ايرانی کاروباری ادارے پريشان

ع س / م م، نيوز ايجنسياں

 

Audios and videos on the topic