1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Symbolbild Kündigung Atomabkommen mit Iran durch USA
تصویر: Imago/Ralph Peters

'امريکی جرائم‘ کے باوجود مکالمت کی گنجائش موجود ہے، ايران

22 نومبر 2020

اليکشن ميں جو بائيڈن کی ممکنہ کاميابی کے تناظر ميں ايران ميں حکومتی حلقے امريکا کے ساتھ مکالمت کا عنديہ دے رہے ہيں۔ مگر قدامت پسند حلقے اسے 'تبديلی‘ کا غلط تاثر قرار ديتے ہوئے جارحانہ طرز عمل کا اصرار کر رہے ہيں۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A7%D9%8A%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%85%D8%B1%D9%8A%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%DB%92-%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%AA-%D8%A8%DA%AF%D8%A7%DA%91%DB%92-%D9%8A%D8%A7-%D8%B3%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%AF%D8%A7%D8%AE%D9%84%DB%8C-%D8%B3%D8%B7%D8%AD-%D9%BE%D8%B1-%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D9%85%D9%86%D9%82%D8%B3%D9%85/a-55691859

ايرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عنديہ ديا ہے کہ روايتی حريف ملک امريکا کے ساتھ بات چيت کی گنجائش موجود ہے۔ سعيد خاطب زادے نے اتوار 22 نومبر کو دارالحکومت تہران ميں منعقدہ ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ ايران کے خلاف 'امريکی جرائم‘ مکالمت کی راہ ميں رکاوٹ نہيں بن سکتے۔ انہوں نے تسليم کيا کہ ايران اور امريکا کے باہمی تعلقات کا مستقبل، ايک پيچيدہ معاملہ ہے۔

ايران کے خلاف پابنديوں کا معاملہ: امريکا ايک طرف، عالمی برادری دوسری طرف

دنيا کو حقيقی خطرہ ايران سے نہيں ترکی سے ہے، ڈگلس مکگريگر

يہ امر اہم ہے کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور ميں امريکا اور ايران کے مابين کشيدگی ميں خاطر خواہ اضافہ ديکھا گيا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کئی ايسے فيصلے کيے، جو ايران کے روايتی حريف ملک اسرائيل کے حق ميں تھے۔ سب سے اہم پيش رفت جوہری ڈيل سے امريکا کی يکطرفہ دست برداری اور پابنديوں کی بحالی ہے۔ تاہم اب جبکہ امريکی صدارتی اليکشن کے غير حتمی نتائج ميں ڈيموکريٹک پارٹی کے اميدوار جو بائيڈن کامياب ہو گئے ہيں، بظاہر ايسا دکھائی ديتا ہے ايران بھی ذرا لچک کا مظاہرہ کرے گا تاکہ اختلافات مکالمت کے ذريعے حل ہو سکيں۔ بائيڈن نے اپنی انتخابی مہم ميں اہم عالمی امور کے حل کے ليے سفارت کاری کا راستہ اختيار کرنے کا کہہ رکھا ہے۔

جوہری معاہدے سے امريکا کی دستبرداری: ايرانی کاروباری ادارے پريشان

ايران کے خلاف امريکی 'جرائم‘ کيا ہيں؟   

ايرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعيد خاطب زادے نے پريس کانفرنس ميں امريکا پر 'جرائم کے ارتکاب‘ کا الزام لگاتے ہوئے اس ضمن ميں کئی تاريخی واقعات کی مثاليں پيش کيں۔ انہوں نے کہا کہ امريکا نے ايرانی عوام کو مسلسل نشانہ بنايا۔ خاطب زادے کے مطابق عراق اور ايران کے مابين 1980ء سے 1988ء تک لڑی گئی جنگ ميں بغداد کی حمايت انہی جرائم ميں سے ايک ہے۔ ايرانی ترجمان نے رواں سال جنوری ميں جنرل قاسم سليمانی کی ہلاکت کا بھی تذکرہ کيا، جنہيں بغداد ميں ايک ڈرون حملے ميں ہلاک کيا گيا تھا۔ ايران اپنے خلاف اقتصادی پابنديوں کو بھی 'جرائم‘ مانتا ہے۔

سعيد خاطب زادے نے کہا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر امريکا اور ايران کے مابين کشيدگی رہی ہے ليکن ساتھ ہی ايک فريم ورک ميں رہتے ہوئے مکالمت کی گنجائش بھی موجود ہے۔ انہوں نے واضح کيا کہ اس کا ہرگز يہ مطلب نہيں کہ ايران اپنے خلاف 'جرائم‘ بھول گيا ہے۔

ايران ميں قدامت پسند حلقے اب بھی نالاں

ايران ميں اعتدال پسند مانے جانے والے صدر حسن روحانی نے بڑے محتاط انداز سے امريکی اليکشن ميں جو بائيڈن کی ممکنہ کاميابی کا خير مقدم کيا۔ مگر ملک ميں سخت گير نظريات کے حامل قدامت پسند حلقے اس سے نالاں ہيں۔ ايک انتہائی قدامت پسند مقامی اخبار نے ہفتے کو يہ سرخی لگائی، ''يہ وقت حملہ کرنے کا ہے، سمجھوتے کا نہيں۔‘‘ ايسے حلقوں کا الزام ہے کہ تہران حکومت 'بہت بڑے شيطان امريکا‘ ميں تبديلی سے غلط تاثر لے بيٹھی ہے۔

ع س / ا ب ا (اے ايف پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Afghanistan | Frauenrechte | Proteste in Afghanistan

افغانستان: طالبان اقتدار کا ہنگامہ خیز ایک برس

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں