1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

او آئی سی کا سربراہی اجلاس: عمران خان شرکت کے لیے روانہ

30 مئی 2019

سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ان حملوں کا ’بھرپور طور پر طاقت اور ثابت قدمی‘ سے جواب دیں جن کا الزام امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران پر عائد کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/3JUw3
اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بھی سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔تصویر: picture-alliance/AA/Iranian Presidency

اسلامی تعاون تنظیم کا 14واں سربراہی اجلاس آج جمعرات 30 مئی سے سعودی عرب میں شروع ہو رہا ہے۔ اس دو روزہ اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان بھی سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔ مکہ میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کریں گے۔

قریب 50 برس قبل وجود میں آنے والی اس تنظیم کا سربراہی اجلاس ہر تین برس بعد منعقد ہوتا ہے جس میں ان مسائل کا حل اور ایک مشترکہ لائحہ عمل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو مسلم ممالک کو درپیش ہوں۔

Tunesien Treffen der arabischen Aussenminister | Ibrahim al-Assaf
سعودی وزیر خارجہ ابراہیم العساف کا کہنا تھا کہ دہشت گردانہ اقدامات کا تمام تر طاقت اور ثابت قدمی سے مقابلہ کیا جانا چاہیے۔تصویر: Reuters/Z. Souissi

خیال رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب ایران کے معاملے پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ امریکا نے نا معلوم خطرات کے پیش نظر نہ صرف اپنا ایک طیارہ بردار بحری بیڑا خلیج فارس میں تعینات کر رکھا ہے بلکہ اپنے جدید بمبار طیارے بی 52 بھی علاقے میں بھیجے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیڑھ ہزار اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا بھی فیصلہ ہو چکا ہے۔

ایران کو طاقت اور ثابت قدمی سے جواب دیا جائے، سعودی عرب

او آئی سی کے سربراہی اجلاس سے قبل مکہ میں ہی اس تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا ہے جس میں سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے کہا کہ ان حملوں کا گزشتہ دنوں ہونے والے اُن حملوں کا ’بھرپور طور پر طاقت اور ثابت قدمی‘ سے جواب دیا جائے، جن کا الزام ایران پر عائد کیا جا رہا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ ابراهيم العساف کی طرف سے یہ مطالبہ 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم ’آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن‘ کے آج جمعرات 30 مئی کو ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر سامنے آیا۔ یہ اجلاس او آئی سی کے سربراہی اجلاس سے قبل منعقد ہوا۔ آج جمعرات 30 مئی سے ہی سعودی عرب میں اسلامی تعاون تنظیم سمیت کئی ایک سربراہی اجلاسوں کا آغاز ہو رہا ہے۔

Saudi-Arabien König Salman
مکہ میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کریں گے۔تصویر: Getty Images/D. Kitwood

العساف کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے قریبی سمندری علاقے میں چار تجارتی بحری جہازوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش اور یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی ملیشیا کی طرف سے سعودی عرب میں ایک پائپ لائن پر ڈرون حملہ ایسے اقدامات ہیں جن کے بعد خطے کو ’’شدت پسندوں اور دہشت گرد گروپوں کی طرف سے دہشت گردانہ اقدامات کو روکنے کے لیے زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔‘‘ العساف کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں تمام تر طاقت اور ثابت قدمی سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔‘‘

خیال رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔ تاہم ایران کی طرف سے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے جو ایک ایسے وقت میں ہوئے جب امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات شدید کشیدہ ہیں۔

 یہ بات اہم ہے کہ ایران اسلامی تعاون تنظیم کا رکن ہے اور اس کا ایک وفد اس اجلاس میں شریک ہے، تاہم ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ک م (اے پی، اے ایف پی)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید