1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اورکزئی میں تازہ بمباری، 40 عسکریت پسند ہلاک

30 مارچ 2010

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سیکیورٹی اہلکاروں نے منگل کو ملکی فضائیہ کے طیاروں کی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری میں کم ازکم 40 مبینہ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

https://p.dw.com/p/Mi9a
تصویر: AP

یہ بمباری پاکستانی فوج کی ان کارروائیوں کا حصہ ہے جو قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف کی جا رہی ہیں۔ منگل کو کی گئی اس کارروائی میں پاکستانی ایئر فورس کے جنگی جہازوں نے اورکزئی ایجنسی میں انجیری اور اروانجو کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں جنوبی وزیرستان ایجنسی میں انتہا پسندوں کے خلاف ملکی فوج کے کامیاب آپریشن کے بعد ان شدت پسندوں نے اپنے ٹھکانے اورکزئی ایجنسی میں منتقل کر دئے تھے۔ اورکزئی ایجنسی کو طالبان کے رہنما حکیم اللہ محسود اپنے مضبوط گڑھ کے طورپر استعمال کرتے تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسی سال جنوری میں ایک مبینہ امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

Taliban in Afghanistan
پاکستانی فوج گزشتہ کچھ برسوں سے طالبان کے خلاف برسرِ پیکار ہےتصویر: dpa

پاکستانی فوج گزشتہ کچھ عرصے سے اورکزئی ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں تیزی لا چکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وہاں 100 کے قریب شدت پسند ہلاک کئے جا چکے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی۔

افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب پاکستانی قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کو امریکہ افغانستان میں قیام امن کے لئے لازمی قرار دیتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی واشنگٹن میں ہونے والےمذاکرات میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ واشنگٹن حکومت نے ان مذاکرات میں یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ پاکستان کے لئے فوجی امداد کی مد میں پہلے سے اعلان کردہ رقوم جلد ہی اسلام آباد کو مہیا کر دی جائیں گی۔

رپورٹ: بخت زمان

ادارت: مقبول ملک