اورنگ زیب کا مقبرہ بھی ہندو قوم پرستوں کے نشانے پر | حالات حاضرہ | DW | 20.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اورنگ زیب کا مقبرہ بھی ہندو قوم پرستوں کے نشانے پر

بھارت میں محکمہ آثار قدیمہ نے، مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے مقبرے کو تباہ کرنے کی دھمکی کے بعد، چند روز کے لیے اسے بند کر دیا ہے۔ دہلی میں بھی اورنگ زیب نام کی ایک گلی کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

بھارتی دارالحکومت دہلی میں گزشتہ روز حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے لوگوں نے اورنگ زیب لین کے ایک سائن بورڈ کو مٹا دیا اور اس پر ایک بینر چسپاں کر دیا، جس پر’’بابا وشواناتھ مارگ‘‘ لکھا ہوا ہے۔

یہ واقعہ بھارتی پارلیمان کے آس پاس کے علاقے میں پیش آیا۔ چند روز قبل ہی دہلی میں بی جے پی کے سربراہ آدیش گپتا نے اورنگ زیب لین، ہمایوں روڈ، اکبر روڈ اور شاہ جہاں روڈ کا نام بدل کر انہیں ہندوؤں کی شخصیات کے نام پر رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اورنگ زیب لین کے سائن بورڈ کو مٹانے کے لیے بی جے پی کے جو کارکن جمع ہوئے، اس میں پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما بھی شامل تھے۔ حکام نے اس حرکت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم بی جے پی کا کہنا ہے کہ اگر اورنگ زیب لین کا نام نہیں بدلا گیا تو اس کے کارکن احتجاج کے لیے روڈ پر نکلیں گے۔

مودی حکومت نے سن 2014 میں اقتدار میں آتے ہی دارالحکومت دہلی کی تاریخی اورنگ زیب روڈ کا نام بدل دیا تھا اور اب دہلی میں ان کے نام کی ایک آخری لین باقی بچی ہے۔ تاہم ہندو قوم پرست جماعتیں اب اسے بھی بدلنے پر بضد ہیں۔

اورنگ زیب کا مقبرہ بند کر دیا گیا   

ہندو قوم پرستوں نے اورنگ زیب کے مقبرے کو بھی منہدم کر کے اسے مٹا دینے کی دھمکی دی ہے اس لیے محکمہ آثار قدیمہ نے مغل شہنشاہ کے مقبرے کو فی الوقت بند کر دیا ہے۔ ان کا مقبرہ ریاست مہا راشٹر کے ضلع اورنگ آباد کے علاقے خلد آباد میں ہے۔

 خطرے کے پیش نظر مسجد کی ایک مقامی کمیٹی نے اس میں تالا ڈال دیا تھا، جس کے بعد محکمے نے اسے ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔ ریاست کے نائب وزیر اعلٰی اجیت پوار کا کہنا تھا،’’مغل شہنشاہ اورنگزیب کا مقبرہ پانچ دن تک بند رہے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔‘‘

اورنگ آباد دیہی پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا،’’یادگار کے مقام پر حالات قابو میں ہیں اور اب تک کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر مقبرے کو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔‘‘

رواں ہفتے منگل کے روز ہندو قوم پرست تنظیم 'مہا راشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس)  کے ایک ترجمان گجانن کالے نے اپنی ایک ٹویٹ میں اورنگ زیب کی قبر کی وجود پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے تباہ کرنے کی دھکی دی تھی۔

ان کا کہنا تھا، ’’شیواجی مہاراج کی سرزمین میں اورنگ زیب کی قبر کی کیا ضرورت ہے؟ اس قبر کو گرا دو، تاکہ (اویسی کی طرح) کوئی علیحدگی پسند اس پر جھکنے نہ آئے۔ بالاصاحب ٹھاکرے نے بھی تو یہی کہا تھا۔‘‘

اس تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا جب حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے مسلم سیاسی رہنما اسد الدین اویسی کے چھوٹے بھائی اکبر الدین اویسی نے اورنگ آباد کا دورہ کرتے ہوئے، اورنگ زیب کے مقبرے پر حاضری دی تھی۔ 

اس پر سب سے پہلے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے رہنما دیوندر فڈنویس نے اپنے رد عمل میں اورنگ زیب کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا،’’اویسی میری بات سنو، اورنگ زیب کی شناخت پر کتا بھی پیشاب نہیں کرے گا۔‘‘

صلاح الدین زین/ ک م

DW.COM