انگیلا میرکل کب تک جرمنی کی چانسلر رہیں گی؟ | حالات حاضرہ | DW | 23.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

انگیلا میرکل کب تک جرمنی کی چانسلر رہیں گی؟

انگیلا میرکل کے مطابق وہ اپنے عہدے کی موجودہ مدت پوری ہونے تک جرمن چانسلر کے فرائض انجام دیتی رہیں گی۔ لیکن پس پردہ ایسے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں کہ چانسلرشپ میرکل کی پارٹی کی سربراہ کرامپ کارین باؤر سنبھال لیں۔

انگیلا میرکل کو جرمنی کی چانسلر کے عہدے پر فائز ہوئے چودہ برس ہو چکے ہیں

انگیلا میرکل کو جرمنی کی چانسلر کے عہدے پر فائز ہوئے چودہ برس ہو چکے ہیں

انگیلا میرکل کو جرمنی کی چانسلر کے عہدے پر فائز ہوئے 14 برس ہو چکے ہیں اور اب وہ بتدریج لیکن یقینی طور پر اقتدار سے رخصتی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ وہ اپنی قدامت پسند جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی قیادت پہلے ہی چھوڑ چکی ہیں۔ اب سی ڈی یو کی سربراہ خاتون سیاستدان ہیں آنے گرَیٹ کرامپ کارین باؤر ہے، جن کے بارے میں میرکل کی یقینی طور پر خواہش ہے کہ جرمنی کی اگلی چانسلر بھی وہی بنیں۔

لیکن ایسا کب اور کس طرح ہو گا؟ جرمن میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق میرکل کی چانسلر کے عہدے سے رخصتی عنقریب ہی ہونے والی ہے۔ میرکل نے دراصل یورپی پارلیمان کے آئندہ انتخابات کے لیے اپنی جماعت سی ڈی یو کی انتخابی مہم سے بھی تقریباﹰ پوری طرح دوری اختیار کر رکھی ہے۔

اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ میرکل، جو تعلیمی حوالے سے ایک سائنسدان ہیں، نے یہ منطقی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی نئی سربراہ کرامپ کارین باؤر کے سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کریں گی۔ یعنی میرکل اپنی جانشین کے طور پر سی ڈی یو کی نئی سربراہ کو یہ پورا موقع دینا چاہتی ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جس بھی سیاسی ایجنڈے کا فیصلہ کریں، اس پر کھل کر عمل بھی کر سکیں۔

Deutschland Politischer Aschermittwoch l AKK CDU-Chefin Annegret Kramp-Karrenbauer

کرامپ کارین باؤر میرکل سے زیادہ قدامت پسند ہیں

میرکل سے زیادہ قدامت پسند

آنے گرَیٹ کرامپ کارین باؤر، جنہیں جرمنی میں ان کے نام کے ابتدائی حروف کو ملا کر مختصراﹰ اے کے کے (AKK) بھی کہا جاتا ہے، سی ڈی یو کو نئے سرے سے ایک بڑی سیاسی اور کامیاب عوامی طاقت بنانے کے لیے اپنی ایک پالیسی بھی وضع کر چکی ہیں۔ ایسا لگتا تو نہیں کہ ان کے ذہن میں بڑی تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ کئی معاملات میں میرکل سے زیادہ قدامت پسند ہیں، مثال کے طور پر تارکین وطن کی آمد، ہم جنس پرست افراد کی آپس میں قانونی شادیوں اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے آپس میں زیادہ انضمام جیسے موضوعات کے بارے میں۔

اے کے کے جب پارٹی سربراہ بنی تھیں، تو سی ڈی یو کے زیادہ قدامت پسند حلقوں نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ ان پارٹی رہنماؤں میں فریڈرِش مَیرس بھی شامل تھے، جو گزشتہ برس موسم خزاں میں پارٹی کی قیادت کے لیے کرامپ کارین باؤر کے ایک اندرونی حریف امیدوار بھی تھے۔ اب یہ دونوں سابقہ داخلی حریف مل کر اپنی پارٹی کو مزید آگے تک لے جانے کے لیے کوشاں ہیں۔ یورپی پارلیمان کے آئندہ انتخابات کے لیے اے کے کے اور فریڈرِش مَیرس مل کر اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

پیش منظر اور پس منظر

سرکاری طور پر کہا یہ جاتا ہے کہ میرکل اپنے موجودہ عہدے کی 2021ء میں پوری ہونے والی مدت تک جرمن چانسلر کے منصب پر فائز رہنا چاہتی ہیں۔ لیکن پس پردہ وہ تمام کوششیں بھی جاری ہیں، جن کے نتیجے میں کرامپ کارین باؤر کے لیے فیڈرل چانسلرشپ کی راہ ہموار کی جا سکے۔

روایتی طور پر جرمنی میں چانسلر یا سربراہ حکومت کے عہدے پر فائز کوئی بھی رہنما اپنی مدت پوری کر کے ہی اس عہدے سے رخصت ہوتا ہے اور اس کے جانشین کا انتخاب وفاقی پارلیمان کا ایوان زیریں کرتا ہے، جو بنڈس ٹاگ کہلاتا ہے۔

برلن میں میرکل کی قیادت میں موجودہ وفاقی حکومت ایک وسیع تر مخلوط حکومت ہے، جس میں میرکل کی سی ڈی یو، اس کی ہم خیال باویریا کی قدامت پسند جماعت کرسچین سوشل یونین یا سی ایس یو اور سوشل ڈیموکریٹس کی پارٹی ایس پی ڈی شامل ہیں۔ اس حکومتی اتحاد کو موجودہ پارلیمان میں اکثریت تو حاصل ہے لیکن ایس پی ڈی کہہ چکی ہے کہ وہ اگلے عام الیکشن سے قبل کرامپ کارین باؤر کو چانسلر بنانے کی پارلیمانی حمایت نہیں کرے گی۔ اسی لیے سوشل ڈیموکریٹس یہ بھی چاہتے ہیں کہ میرکل پارلیمانی نظام الاوقات کے مطابق اپنے عہدے کی 2021ء میں پوری ہونے والی مدت مکمل کریں۔

سوشل ڈیموکریٹس کا فیصلہ کن موقف

ایس پی ڈی کی حمایت کے بغیر سی ڈی یو پارلیمان میں چانسلرشپ میں تبدیلی کی سوچ پر عمل نہیں کر سکتی۔ اس لیے کہ ایک تو تب اسے اس تبدیلی کے لیے ارکان پارلیمان کی اکثریتی تائید حاصل نہیں ہو سکے گی اور دوسرے یہ کہ اس طرح موجودہ مخلوط حکومت کے قبل از وقت خاتمے کا خطرہ بھی پیدا ہو جائے گا۔ یوں دیکھا جائے تو ایک طرح سے جرمنی میں یہ سیاسی فیصلہ بالواسطہ طور پر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کرے گی کہ انگیلا میرکل کب تک سربراہ حکومت کے عہدے پر فائز رہتی ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات