انڈونیشیا کا بیالیس سالہ ’خدا‘ مشکل میں | معاشرہ | DW | 25.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انڈونیشیا کا بیالیس سالہ ’خدا‘ مشکل میں

انڈونیشیا کے ایک بیالیس سالہ شہری کو، جس کے قومی زبان میں نام ’تُوہان‘ کا مطلب ’خدا‘ ہے، اب دنیا کے سب سے زیادہ مسلم آبادی والے اس ملک میں مذہبی تعلیمات پر عملدرآمد کے نگران ریاستی ادارے کے حکم پر اپنا نام بدلنا ہو گا۔

default

انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے

انڈونیشی دارالحکومت جکارتہ سے منگل پچیس اگست کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق انیس سو ستّر کی دہائی کے پہلے نصف حصے میں جب ’تُوہان‘ پیدا ہوا تھا، تو اس کے والدین نے اس کا یہی نام رکھا تھا۔ لیکن اب اس شہری کو یہ حکم دے دیا گیا ہے کہ اسے ہر حال میں اپنا نام بدلنا ہو گا۔

ڈی پی اے کے مطابق انڈونیشیا کے بہت سے دیگر شہریوں کی طرح ’تُوہان‘ کا بھی کوئی خاندانی نام نہیں ہے اور اس کی شہری شناخت صرف ایک ہی نام پر مشتمل ہے۔ اس بارے میں انڈونیشی سوشل میڈیا پر گزشتہ ہفتے اس وقت کافی ہلچل دیکھنے میں آئی جب اس کے سرکاری شناختی کارڈ کی ایک نقل کسی نے آن لائن پوسٹ کر دی اور اس پر جو کئی طرح کے تبصرے کیے گئے، ان میں یہ بھی شامل تھا کہ ’خدا واقعی وجود رکھتا ہے‘۔

انڈونیشی نیوز ویب سائٹ ’ٹیمپو‘ نے آج منگل کے روز لکھا کہ ’تُوہان‘ کی تصویر نے سوشل میڈیا پر جو دھوم مچائی، اس پر اسلام کی مذہبی تعلیمات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے والا ملکی ادارہ حرکت میں آ گیا۔ اب اس شہری کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنا نام سرے سے ہی تبدیل نہیں کرنا چاہتا تو کم از کم اسے اس سے پہلے ’عبدو‘ کا لفظ لگا لینا چاہیے تاکہ اس کے نام کا معنی ’خدا‘ کی بجائے ’خدا کا بندہ‘ ہو جائے۔

ڈی پی اے کے مطابق انڈونیشیا کی مسلم کونسل نے ملکی حکام کو یہ ہدایت بھی کر دی ہے کہ جب تک ’تُوہان‘ اپنا نام نہیں بدلتا، اسے حاصل تمام سماجی سہولیات معطل کر دی جائیں تاکہ اسے اپنی قانونی شناخت کے طور پر اپنا نام تبدیل کرنا ہی پڑے۔

نیوز ویب سائٹ ’ٹیمپو‘ کے مطابق ’تُوہان‘ پیشے کے اعتبار سے ایک خرادیہ ہے، جو جاوا کے جزیرے کے مشرقی ساحلی علاقے بانیُووانگی کا رہنے والا ہے۔ ’ٹیمپو‘ کے مطابق ’تُوہان‘ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ ساری دنیا کو یکدم اس کے نام پر اعتراض کیوں ہونے لگا ہے۔ ’’بیالیس سال تک میں اسی نام کے ساتھ زندہ رہا ہوں، اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اب مجھے کہا جانے لگا ہے کہ مجھے اپنا نام ہر حال میں بدلنا ہو گا۔‘‘