انڈونیشیا میں ’داعش سے وابستہ‘ سترہ مشتبہ شدت پسند گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 23.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انڈونیشیا میں ’داعش سے وابستہ‘ سترہ مشتبہ شدت پسند گرفتار

انڈونیشیا میں ایسے سترہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن کے مشتبہ طور پر جنگجو گروہ داعش کے ساتھ روابط ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح انڈونیشیا نے بھی انسداد دہشت گردی کے لیے خصوصی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے انڈونیشیا کی پولیس کے حوالے سے تئیس جنوری بروز پیر بتایا کہ ملکی سکیورٹی اداروں نے ایسے سترہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ داعش کے ساتھ رابطے میں تھے۔

شام جانے کی کوشش، بچوں سمیت 14 افراد گرفتار

پارلیمان پر حملہ ہو سکتا ہے: انڈونیشین پولیس سربراہ

انڈونیشیا کے اسلام پسند جکارتہ کے مسیحی گورنر کے خلاف کیوں ہیں؟

ان انڈونیشی باشندوں کو ترکی نے ڈی پورٹ کرتے ہوئے واپس وطن روانہ کیا تھا۔ انقرہ حکومت کے مطابق یہ غیر ملکی شام جانے کی کوشش میں تھے۔

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے دوران انڈونیشیا سے بھی ہزاروں افراد داعش کی رکنیت اختیار کرنے کی خاطر مشرق وسطیٰ کے ممالک کی طرف گئے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا میں بھی خطرات پائے جا رہے ہیں کہ ایسے انتہا پسند وطن واپس لوٹنے پر حملے کر سکتے ہیں۔

انڈونیشیا کی قومی پولیس کے ترجمان ریکوانتو نے آج بتایا کہ جکارتہ کے ہوائی اڈے پر ان افراد کو ہفتے کے دن اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ استنبول سے وہاں پہنچے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ان افراد کے ساتھ متعدد بچے بھی تھے۔

ریکوانتو کے مطابق ترک حکام کو شبہ تھا کہ یہ لوگ شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں جانے کی منصوبہ بندی میں تھے، اس لیے انہیں واپس انڈونیشیا بھیج دیا گیا۔

Indonesien Flughafen eröffnet in Jakarta (Reuters/Beawiharta)

جکارتہ کے ہوائی اڈے پر ان افراد کو ہفتے کے دن اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ استنبول سے وہاں پہنچے تھے

ریکوانتو نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ایسے اشارے ملے ہیں کہ یہ مشتبہ افراد داعش کے ساتھ رابطے میں تھے۔ اب حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ انہیں کس گروہ نے بھرتی کیا تھا اور ان کے سفر کے لیے فنڈنگ کس نے کی۔‘‘

گزشتہ کچھ برسوں کے دوران انڈنیشیا کے سکیورٹی ادارے کئی ایسے شہریوں کو گرفتار کر چکے ہیں، جو شام جانے کی کوشش میں تھے۔

گزشتہ برس جکارتہ میں ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا، جس میں چار افراد مارے گئے تھے۔ یہ اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی پرتشدد کارروائی تھی، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

اس کے بعد سے انڈونیشیا میں کئی ایسے چھوٹے لیکن پرتشدد واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں داعش کے ملوث ہونے کا شبہ کیا جاتا ہے۔

DW.COM

اشتہار