انعام میں ملنے والی گائیں حکومت کو واپس | معاشرہ | DW | 09.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انعام میں ملنے والی گائیں حکومت کو واپس

ریاست کے زرعی وزیر اوم پرکاش دھنکھڑ نے گزشتہ ماہ تین خواتین باکسرز کو قومی مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے پر ایک ایک گائے بہ طور انعام پیش کی تھی۔ لیکن یہ انعامی گائیں ان باکسروں نے واپس کر دی ہیں۔

 باکسر نیتو، جیوتی اور ساکشی پہلے ہی یہ قدم اٹھا چکی ہیں جبکہ  چوتھی کھلاڑی انوپما بھی اپنی گائے واپس کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

ہندو مذہب کے بعض مکاتب فکر میں گائے ایک مقدس مویشی ہے، جس کی بہت سے علاقوں میں پوجا کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کے بیشتر حصوں میں اس کے ذبیحے پر پابندی عائد ہے۔ جن ریاستوں میں ہندو نظریات کی حامل دائیں بازو کی جماعت بی جے پی اقتدار میں ہے وہاں گائے کو فروغ دینے کے لیے طرح طرح کی سکیمیں چلائی جا رہی ہیں۔ ریاست ہریانہ میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے جس کے ایک وزیر اوم پرکاش دھنکڑ نے اعلان کیا تھا کہ ریاست کا جو بھی کھلاڑی اپنے شعبے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرےگا اسے ایک گائے خصوصی طور پر انعام میں دی جائے گی۔

گائے کے ہندو محافظوں کے ہاتھوں ایک مسلمان ہلاک، دوسرا زخمی

صحت مند رہنے کا راز قیلولے اور خالص دودھ پینے میں مضمر

’گائے کا تحفظ‘: دو مسلمانوں کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا

گزشتہ برس انیس سے چھبیس نومبر کے درمیان ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں ورلڈ یوتھ ویمن باکسنگ چیمپئن شپ ہوئی تھی۔ اس میں جن چھ باکسروں نے میڈل جیتے تھے اس میں سے  باکسر نیتو، ساکشی، انوپما ا ور جیوتی گولیا کا تعلق ریاست ہریانہ سے ہے۔ حکومت نے انعام کے طور  پر پیسوں کے بجائے انھیں گائیں دی تاہم یہ تینوں کھلاڑی اپنی گائیں واپس کر چکی ہیں۔             

جیوتی گولیا نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ گائے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک مصیبت بن چکی تھی، اسی وجہ سے انھوں نے اسے واپس کر دیا۔ ’’گائے دودھ تو دیتی نہیں تھی اور میری ماں کو بہت پریشان کرتی تھی، میرے گھر والوں پر کئی بار حملہ کر چکی تھی۔ فائدے کے بجائے ایک طرح کا بوجھ تھی تو ایسی گائے کو رکھنے سے کیا فائدہ۔’’

جیوتی کا کہنا تھا کہ گائے کو پالنے پر کافی خرچ آتا ہے: ’’اس کا چارا کافی مہنگا ملتا ہے، دن بھر اس کی نگرانی کرنی پڑتی ہے اور اس کے بدلے میں ملتا کیا ہے؟ انعام ہی دینا تھا تو کچھ اور دیتے جس سے کچھ بھلا ہوتا۔ ہم تو گھروں میں رہتے نہیں ہیں پریکٹس کے لیے اکثر کیمپوں میں رہتے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں جیوتی نے کہا کہ متعلقہ حکام ان سے پھر کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی پسند کی کوئی دوسری گائے لے سکتی ہیں لیکن اب انھیں گائے نہیں چاہیے، ’’گائے کے مارنے سے میری ماں زخمی ہو گئیں، اب ہم بھینس کے ساتھ ہی ٹھیک ہیں۔‘‘

Indien Kuh-Preisverleihung (DW/S. Zain)

ان کھلاڑیوں کو انعام میں گائے دی گئی تھی

ایک دوسری کھلاڑی ساکشی نے بھی انعام میں ملنے والی گائے حکومت کو لوٹا دی ہے۔ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ گائے دودھ کم دیتی ہے اورجب کہ  اس پر خرچ اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور اس کی دیکھ بھال میں بہت سا وقت برباد ہوتا ہے۔

نیتو کا کہنا تھا کہ ان کی گائے کا بچھڑا مر گیا تھا، جس کی وجہ سے گائے نے دودھ دینا بند کر دیا۔ اس لیے گائے  واپس کی گئی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’اب دوبارہ گائے ہی دینی کی بات کہی جا رہی ہے اور اگر کوئی اچھی گائے ملی تو اس بارے میں سوچیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہم اپنی پسند کی گائے لے سکتے ہیں اور اگر ایسی پیشکش آئی تو ہم اس پر غور کرسکتے ہیں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:50
Now live
02:50 منٹ

بے بی لینا کا خواب ہرا بھرا پاکستان

  ایک دوسری کھلاڑی انوپما بھی اپنی گائے سے خوش نہیں ہیں، اسی لیے وہ بھی اپنی گائے واپس کرنے والی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گائے کو گھر لانے کے بعد سے اس پر ہزاروں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن وہ تین لیٹر سے زیادہ دودھ نہیں دیتی ہے، اس لیے وہ بھی اپنی گائے لوٹانا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں ریاستی حکومت نے جیتنے والے باکسروں کے اعزاز میں ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا تھا، جس میں ریاست کے وزیر زراعت نے چھ باکسروں کو گائیں دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا، ’’گائے کے دودھ سے انسان کی خوبصورتی بڑھتی ہے اور پینے والے کا دماغ بھی تیز ہوتا ہے۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار