انسانيت يا قانون کا احترام؟ برطانوی فوجی کٹہرے ميں | مہاجرین کا بحران | DW | 14.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انسانيت يا قانون کا احترام؟ برطانوی فوجی کٹہرے ميں

ايک چار سالہ افغان بچی کو فرانس سے برطانيہ اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والے سابق برطانوی فوجی راب لوری کے خلاف مقدمے کی سماعت آج چودہ جنوری سے فرانس ميں شروع ہو رہی ہے۔

چار بچوں کے والد، انچاس سالہ سابق برطانوی فوجی راب لوری کو غير قانونی ہجرت ميں مدد فراہم کرنے پر پانچ برس قيد اور تقريباً تيس ہزار يورو کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لوری فرانس کے شمال ميں واقع کیَلے کے مقام پر مہاجرين کے ايک کيمپ ميں مدد کی غرض سے گئے تھے۔ چار سالہ بہار احمدی اور اس کے والد سے ان کی ملاقات وہيں ہوئی تھی۔ بہار کے والد رضا احمدی نے لوری سے درخواست کی کہ وہ بہار کو ساتھ لے جائيں اور برطانیہ میں موجود ان کے رشتہ داروں تک پہنچا دیں۔ تاہم ابتداء ميں لوری نے کئی مرتبہ اس کی درخواست مسترد کر دی۔ موسم سرما کی آمد کے سبب کیَلے ميں حالات اور بھی مشکل ہوتے گئے اور ايک دن لوری اپنی گاڑی ميں بہار کو بٹھا کر روانہ ہو گيا۔

فرانسيسی پوليس نے جب لوری کو پکڑا تو اس وقت ان کی گاڑی کی ڈگی ميں اريٹريا کے دو تارکين وطن بھی موجود تھے۔ لوری کا کہنا ہے کہ انہوں نے يہ قدم انسانی ہمدردی کی بنياد پر اٹھايا تھا اور انہيں فرانسيسی قوانين کی خلاف ورزی پر شرمندگی ہے۔ برطانيہ ميں اپنے مقدمے کی سماعت سے قبل بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، ’’بہار ايک بہت ہی منفرد بچی ہے۔‘‘

سابق برطانوی فوجی کے مطابق ہر کسی کی مدد نہيں کی جاسکتی ليکن کوئی کسی نہ کسی کی مدد کر سکتا ہے۔ نيوز ايجنسی روئٹرز کی گزشتہ برس اکتوبر ميں لی گئی فوٹيج ميں لوری کو کيمپ ميں بہار کے ساتھ کھيلتے ہوئے ديکھا جا سکتا ہے۔

راب لوری کی وکيل کے مطابق وہ لوری کے خلاف تمام تر الزامات ہٹوانے کی کوشش کريں گی۔ انہوں نے بتايا کہ فرانسيسی قانون کے مطابق بغير کسی معاوضے کے خطرے سے دوچار پناہ گزينوں کی مدد کرنے والے سزا سے بچ سکتے ہيں اور وہ اسی قانون کے تحت کارروائی کريں گی۔

شمالی فرانس کے کیَلے کہلانے والے اس علاقے ميں ان دنوں درجنوں کيمپوں ميں ہزار ہا تارکين وطن مقيم ہيں۔ يہ سب کسی نہ کسی طرح برطانيہ پہنچنے کے خواہاں ہيں، جہاں ملازمت کے بہتر مواقع موجود ہيں اور انگريزی زبان بولی جاتی ہے جو کئی لوگ جانتے ہيں۔

اشتہار