انتفادہ کیا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 08.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انتفادہ کیا ہے؟

حماس کے مطابق امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے سے تیسری انتفادہ شروع ہو سکتی ہے۔ لیکن انتفادہ کیا ہے اور پہلی دو کے فلسطین اسرائیل تنازعے پر کیا اثرات مرتب ہوئے تھے؟

عمومی طور پر انتفادہ کا ترجمہ ’بغاوت‘ سے کیا جاتا ہے لیکن عربی زبان میں اس کے معنی ’ہلا دینے‘ یا ’چھٹکارہ حاصل‘ کرنے کے زیادہ قریب ہیں۔ اگر انتفادہ کا لفظ اسرائیل اور فلسطین کے تناظر میں استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب ’فلسطینیوں کی اسرائیلی فوج کے خلاف نچلی سطح تک منظم اور سیاسی حمایت یافتہ بغاوت‘ سمجھا جاتا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین پہلے ہی اس طرح کی دو لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ پہلی انتفادہ کا آغاز 1987ء میں ہوا تھا اور یہ 1993ء میں اختتام پذیر ہوئی۔ دوسری انتفادہ اس سے بھی خونریز تھی، جو سن 2000ء میں ہو شروع ہوئی اور چار برس تک جاری رہی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے بعد اب فلسطینی گروپ حماس نے تیسری انتفادہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی حکام مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ مشرقی یروشلم پر اس وقت اسرائیل قابض ہے۔ امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کا واضح مطلب اسرائیل کی حمایت کرنا سمجھا جا رہا ہے۔

پہلی انتفادہ کیا تھی؟

پہلی انتفادہ کا آغاز آٹھ دسمبر 1987ء کو اس وقت ہوا تھا، جب ایک اسرائیلی فوجی  کے ٹرک کی ٹکر اس کار سے ہوئی تھی جو فلسطینی مزدوروں کو لے کر جا رہی تھی۔ اس تصادم کے نتیجے میں چار فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اسرائیل کا کہنا تھا کہ ٹرک ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر ہو گیا تھا لیکن زیادہ تر عرب مبصرین کے مطابق عام فلسطینیوں کی گاڑی کو جان بوجھ کر ٹکر ماری گئی تھی۔ اس طرح اس اسرائیلی کا بدلہ لیا گیا تھا، جو چند روز پہلے چاقو کے ایک حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

ان فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد پرتشدد کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ اسرائیلی فوجیوں کے خلاف پرتشدد احتجاج کیا گیا اور فوجیوں نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں فائر کیں۔ رفتہ رفتہ احتجاجی مظاہروں میں شدت آتی گئی۔ ابتدائی مظاہرے اچانک اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے تھے لیکن بعدازاں یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) نے انہیں منظم طریقے سے شروع کیا۔

اسی وقت زیادہ تر فلسطینیوں نے اسرائیل میں ملازمت پر جانے سے انکار کر دیا۔ تحریک سول نافرمانی کے تحت ٹیکس کی ادائیگی اور اسرائیلی مصنوعات کا بھی بائیکاٹ کر دیا گیا۔ پہلی انتفادہ کے دوران ہی حماس نے جنم لیا۔ اس کی بنیاد شیخ احمد یاسین نے رکھی اور پی ایل اور کے سخت عقیدے کے مذہبی اراکین کے ساتھ ساتھ اسے اخوان المسلمون کی حمایت بھی حاصل رہی۔

اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ علاقوں میں انتفادہ کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں۔ کرفیو نافذ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں۔ فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ پرتشدد کارروائیوں کو مزید ہوا ملی۔

کئی سالہ تشدد کے بعد اسرائیل اور پی ایل او کے مابین 1993ء میں اوسلو معاہدہ ہوا اور اس طرح پہلی انتفادہ اپنے اختتام کو پہنچی۔ اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں متضاد اعداد و شمار پائے جاتے ہیں۔ ایک اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق اس دوران 1203 فلسطینی ہلاک ہوئے جبکہ 179 اسرائیلی مارے گئے۔ اس دوران اسرائیل کے سخت کریک ڈاؤن کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔

دوسری انتفادہ کیا تھی؟

اٹھائیس ستمبر سن 2000 کو اسرائیلی سیاستدان ایریل شیرون نے مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقے کا دورہ کیا، جس سے دوسری انتفادہ کا آغاز ہوا۔ اس دورے کو یروشلم پر اسرائیلی ملکیت کے دعوے کے طور پر دیکھا گیا۔ احتجاجی مظاہرین نے پولیس اہلکاروں، ایریل شیرون اور ان کے ہمراہ دیگر سیاستدانوں پر حملہ کر دیا۔ یہ جھڑپیں تیزی سے پھیل گئیں اور ان دو دن کے دوران عوام کے سامنے ایک بارہ سالہ فلسطینی لڑکے کو ہلاک کر دیا گیا۔ حماس نے چھ اکتوبر کو ’یوم غضب‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کی بیرونی پوسٹوں پر حملے کرنے کا کہا۔ یہ تنازعہ یوں پھیلتا چلا گیا اور کئی سال جاری رہا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق دوسری انتفادہ پہلی انتفادہ کی نسبت زیادہ خونریز تھی۔ اس میں تقریبا 1330 اسرائیلی ہلاک ہوئے جبکہ مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 3300 سے زائد تھی۔ دوسری انتفادہ کے اختتام کی کوئی حتمی تاریخ موجود نہیں ہے۔ زیادہ تر مبصرین کے مطابق سن 2004 میں یاسر عرفات کی وفات کے ساتھ یہ ختم ہو گئی تھی۔ یاسر عرفات کی وفات کے بعد ہلکی نوعیت کی جھڑپیں کچھ عرصہ تک جاری رہیں۔

اشتہار