انتخابات میں خواتین کی ریکارڈ شرکت: جمہوری تسلسل کی فتح | حالات حاضرہ | DW | 28.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

انتخابات میں خواتین کی ریکارڈ شرکت: جمہوری تسلسل کی فتح

حالیہ انتخابات میں خواتین کی ریکارڈ شرکت کو انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء کا ثمر قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے خواتین اراکین پارلیمان اور حقوق نسواں کی تنظیموں کی طویل جدوجہد کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

عام انتخابات 2018ء  میں کل 171 خواتین امیدواروں نے حصہ لیا، جن میں 105 خواتین امیدواروں نے پارٹی ٹکٹ کے تحت الیکشن لڑا جبکہ 66 نے آزاد امیدوارکے طور پر انتخابات میں حصہ لیا۔ خواتین کو سب سے زیادہ 19 ٹکٹیں پاکستان پیپلز پارٹی نے دیں، متحدہ مجلس عمل نے 14 خواتین کو ٹکٹیں دیں جبکہ پی ٹی آئی نے 11 اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی 11 خواتین کو پارٹی ٹکٹ دیے۔ یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں  کل 135 خواتین امیدواروں میں سے 61 نے پارٹی ٹکٹ پر اور 76  نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تھا۔ 2008ء  میں کل 72 خواتین میں سے 41 نے پارٹی ٹکٹ پر اور 31 خواتین نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

گو حالیہ انتخابات کو خواتین کی شمولیت کے حوالے سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے لیکن کئی ماہرین عدم اعتماد کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 95 سے 105 ملین ووٹوں میں سے خواتین ووٹوں کی تعداد 46,7 ملین ہے لہذا ان کی نمائندگی بھی اس کے مطابق ہونی چاہیے۔ اسی طرح اس بات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق، ان انتخابات میں بھی خیبر پختونخوا اور پنجاب کے آٹھ اضلاع میں سیاسی جماعتوں اور عمائدین کے مشترکہ فیصلے کے تحت ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اٹھائیس جولائی کو روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والے اداریے کے مطابق، ’’پاکستانی خواتین کی عام انتخابات 2018ء میں بڑے پیمانے پر شرکت کو ایک اجتماعی فتح قرار دینا چاہیے۔ الیکشن کمیشن تعریف و توصیف کا حق دار ہے کہ انہوں نے خواتین کو انتخابی عمل کا حصہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات، دیر زیریں، دیر بالا، شانگلہ، صوابی اور بٹ گرام کی مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئیں تھیں کہ خواتین کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔‘‘ 

     

سیاسی مبصرین اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق عام خواتین ووٹروں نے خصوصاﹰ ان علاقوں میں گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالا، جہاں روایتی پدرسری ثقافتی، سماجی اور مذہبی نفسیات ہمیشہ ان کے حق رائے دہی کے خلاف متحد رہی۔ دیر زیریں، دیر بالا، کوہستان اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں خواتین نے انتخابی عمل میں تاریخی شمولیت کی۔ مثال کے طور پر دیر زیریں اور دیر بالا میں پہلی مرتبہ 40 فیصد خواتین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن کے فراہم کردہ حقائق کے مطابق انتخابات 2013ء   میں دیر زیریں میں خواتین کے کل  دو لاکھ رجسٹر ووٹوں میں صرف 231 خواتین نے ووٹ ڈالے تھے۔ اسی طرح 2013 میں دیر بالا کے حلقہ پی کے 10 میں خواتیں کے کل 138910 ووٹوں میں سے صرف ایک خاتوں نے ووٹ ڈالا تھا۔ یہی علاقہ تھا جہاں 2015ء  میں الیکشن کمیشن نے یہ رجحان دیکھتے ہوئے ایک ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیا۔ اس مرتبہ اس علاقے کی خواتین نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔

پاکستان: ایک کروڑ سے زائد نئے ووٹر، مرد خواتین سے کہیں زیادہ

ملکی و غیر ملکی ماہرین کے مطابق یہ ایک غیر معمولی رجحان ہے اور اس حوالے سے انتخابی اصلاحات کے ایکٹ 2017ء کی تعریف کی جا رہی ہے، جس کی رو سے سیاسی جماعتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عام نشستوں پر 5 فیصد ٹکٹیں خواتین کو دیں اور کسی بھی حلقہ میں اگر خواتین کے دس فیصد ووٹ نہ ڈالے گئے ہوں تو وہ انتخاب کالعدم قرار دیا جائے گا۔

یورپی پارلیمنٹ کے وفد برائے الیکشن ابزرویشن کی سربراہ جین لیمبرٹ کے مطابق، ’’ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے خواتین کو انتخابی اور جمہوری عمل کا حصہ بنانے کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عام نشستوں پر خواتین کو پانچ فیصد نشستیں دینے کی شرط ایک نکتہ آغاز ہو گی لیکں یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں اہم حلقوں سے امیدوار بنایا جائے۔‘‘ ان کا اشارہ اس حقیقت کی جانب تھا کہ بیشتر جماعتوں نے پانچ فیصد نشستوں پر خواتین امیدواروں کی پابندی پر عمل تو کیا لیکن عام طور پر انہیں ایسی نشستوں پر ٹکٹ دیے گئے، جہاں شکست یقینی تھی۔

تاہم کئی حلقوں میں خواتین نے بھرپور انتخابی مہمیں چلائیں۔  قبائلی علاقوں سے پہلی مرتبہ بزرگ خاتوں علی بیگم نے انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے ارادے اور خیالات کی پختگی سے سبھی کو متاثر کیا۔ اےاین پی نے جنوبی پنجاب میں ملتان کے حلقہ این اے 155 سے ایک خاتوں وکیل نوشین افشاں کو ٹکٹ دیا، جو موٹر سائیکل پر اپنی انتخابی مہم چلاتی رہیں۔ اسی طرح عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 سے عصمت رضا شاہجہاں کو ٹکٹ دیا۔ پاکستانی صحافی جگنو محسن نے حلقہ این اے 145 سے الیکشن لڑا۔ اسی طرح ڈاکٹر یاسمین رشید، فردوس عاشق اعوان، فریال تالپور، شہلا رضا، عاصمہ ارباب عالمگیر، ثمینہ خالد گھرکی، تہمینہ دولتانہ، سائرہ افضل تارڑ، غلام بی بی بھروانہ، فہمیدہ مرزا، زرتاج گل، عائشہ گلالئی اور سمیرا ملک جیسی کئی معروف خواتین سیاست دانوں کے علاوہ درجنوں غیر معروف خواتین نے عوام میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ہری پور ہزارہ میں گیارہ خواتین نے الیکشن لڑا ، جن میں آٹھ نے قومی اسمبلی کی نشست پر جبکہ تین نے صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات کرتے ہوئے اسلام آباد عوامی ورکرز پارٹی کے ٹکٹ پر اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 سے الیکشن لڑنے والی عصمت رضا شاہجہاں کا کہنا تھا، ’’پانچ فیصد نمائندگی کے قانون سے عورتوں کو سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے اور پدرسری نظام کو ضعف پہنچا ہے۔ یہ ایک اچھا آغاز ہے اور عوامی ورکرز پارٹی اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ، ’’انتخابی مہم کے دوران مجھے عورت ہونے کے حوالے سے کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ میری حمایت اور مخالفت میری صنف سے قطع نظر ہوئی۔ تاہم یہ ضرور ہوا کہ پولنگ ڈے پر انتظامیہ نے بطور امیدوار مجھے پولنگ سٹیشنوں میں جانے نہیں دیا۔ وہ کہتے تھے کہ آپ خاتوں ہیں لہذا عورتوں کے پولنگ اسٹیشن پر جائیں۔‘‘

معروف صحافی اور حقوق نسواں کی کارکن ماروی سرمد پارلیمان کے ’’وویمن کاکس‘‘ سے ایک تربیت کار کے طور پر منسلک رہی ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم نے 1996ء  کے انتخابات میں خواتین کو ووٹ کی اجازت نہ دینے کے رجحان کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس شرمناک کام میں تمام قومی جماعتیں شامل تھیں۔ ان لوگوں نے ہمارے خلاف فتوے دیے۔ ایک تحریک چلائی گئی، عورتوں کے چہروں پر سیاہی پھینکی گئی اور ان کی تصویروں کو جلایا گیا۔ خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق کمیشن کی رکن خواتین پر حملے ہوئے اور دو خواتین کو قتل کر دیا گیا۔‘‘

ماروی سرمد کا کہنا تھا کہ یہ رجحان 2202ء، 2008ء  اور 2013ء  کے انتخابات میں جاری رہا۔ اسی طرح 2015-16 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی یہی کیا گیا۔ لیکن ان تمام برسوں کے دوران خواتین تنظیموں کی جدوجہد بھی جاری رہی۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورتیں کیں اور انتھک کام کیا۔ 2012ء  میں وویمن پارلیمانی کاکس نے اسمبلی میں مطالبہ رکھا کہ عام نشستوں پر خواتین کے لیے 10 فیصد نشستوں کو لازم کیا جائے اور خواتین کے 10 فیصد ووٹ کاسٹ نہ ہونے کی صورت میں الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔ 2015ء  میں جب اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بنی تو ہم نے یہی مطالبات رکھے تھے۔ آخر کار 2017ء  کی اصلاحات میں ان مطالبات کو ایک حد تک تسلیم کر لیا گیا۔ 

ماروی سرمد کے خیال میں، ’’الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء  کی تعریف کی جانی چاہیے۔ لیکن یہاں تک پہنچنے میں حقوق نسواں کی تنظیموں، خواتین اراکین پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے اداروں نے بنیادی کردار ادا کیا اور یہ انہی کی کوششوں کا ثمر ہے۔‘‘ 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات