امریکی یرغمالیوں کو فی دن 10 ہزار ڈالر ہرجانہ ملے گا | حالات حاضرہ | DW | 25.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی یرغمالیوں کو فی دن 10 ہزار ڈالر ہرجانہ ملے گا

ایران میں یرغمال بنائے جانے والے 53 امریکیوں کو بالآخر ہرجانہ ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان افراد کو 1979ء کے اسلامی انقلاب کے وقت تہران کے امریکی سفارت خانے میں شدت پسند طلبہ کے ایک گروپ نے یرغمال بنا لیا تھا۔

ان امریکیوں کو 444 روز تک یرغمال رکھا گیا تھا۔ امریکی قانون سازوں کی طرف سے ایک نئے قانون میں ایسے افراد کو ہرجانہ ادا کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد یرغمال بنائے جانے والے ہر فرد کو 10 ہزار ڈالر فی دن کے حساب سے مجموعی طور پر 4.4 ملین ڈالرز ہرجانہ ادا کیا جائے گا۔

1979ء میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے وقت ان امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے سے نہ صرف امریکا بھر میں عوامی سطح پر پریشانی رہی بلکہ واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔ ان افراد کو 1981ء میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد رہائی ملی تاہم اس معاہدے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ ایرانی حکومت سے یرغمال بنائے جانے پر زر تلافی طلب نہیں کریں گے۔ اسی باعث متاثرہ افراد کئی دہائیوں تک ہرجانے کی رقم وصول کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف تھے۔

رواں برس ایک امریکی جج نے فرانس کے سب سے بڑے بینک PNB Paribas کو حکم دیا تھا کہ وہ امریکا کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی پر 8.9 بلین امریکی ڈالرز کی رقم بطور جرمانہ ادا کرے۔ اب یہ رقم دستیاب ہے اور اسے دہشت گردی کے شکار بننے والے افراد کی امداد کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔

اسلامی انقلاب کے وقت شدت پسند طلبہ کے ایک گروپ نے تہران کے امریکی سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا

اسلامی انقلاب کے وقت شدت پسند طلبہ کے ایک گروپ نے تہران کے امریکی سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا

تقریباﹰ تمام یرغمالیوں کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی تھومس لینکفورڈ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ فنڈنگ دراصل ایسی کمپنیوں سے وصول ہونے والے جرمانوں سے ادا کی جائے گی جنہوں نے پابندیوں کے شکار ایران، شمالی کوریا اور شام جیسے ممالک کے ساتھ غیر قانونی کاروبار کیا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اس قانون پر دستخط گزشتہ ہفتے کیے تھے اور اس قانون کے تحت 1983ء میں بیروت میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کو بھی تلافی کی رقم ادا کی جائے گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی ارکان پارلیمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون سے 1998ء میں تنزانیہ اور کینیا میں بم دھماکوں کا نشانہ بننے والی امریکی سفارت خانوں کے متاثرین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

ایران میں یرغمال بنائے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 66 تھی۔ ان میں سے 13 افراد کو نومبر 1979ء میں رہا کر دیا گیا تھا جبکہ ایک مزید یرغمالی کو جولائی 1980ء میں اس کی صحت کے مسائل کی وجہ سے رہا کیا گیا۔ جبکہ بقیہ 52 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال رکھا گیا تھا۔