امریکی صدر ٹرمپ اولین دورے پر جرمنی پہنچ گئے | حالات حاضرہ | DW | 06.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی صدر ٹرمپ اولین دورے پر جرمنی پہنچ گئے

جنوری میں اپنا عہدہ سنبھالنے والے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کے طور پر اپنے اولین دورے پر جمعرات چھ جولائی کو جرمنی پہنچ گئے۔ ٹرمپ اس دورے کے دوران ہیمبرگ میں ہونے والی جی ٹوئنٹی کی دو روزہ سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

default

امریکی صدر ٹرمپ ہیمبرگ میں جرمن چانسلر میرکل کے ساتھ

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے جمعرات چھ جولائی کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر کے اس دورے کا مقصد ترقی یافتہ اور ترقی کی دہلیز پر کھڑے ممالک کے بیس کے گروپ یا جی ٹوئنٹی کی اس سمٹ میں شرکت کرنا ہے، جو جمعہ سات جولائی سے لے کر ہفتہ آٹھ جولائی تک شمالی جرمنی کی شہری ریاست ہیمبرگ میں ہو رہی ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس دورے کے دوران امکان ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کو ان کی تحفظ ماحول سے متعلق سیاسی پالیسیوں کے باعث تنہائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ جون میں یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ امریکا پیرس میں طے پانے والے تحفظ ماحول کے عالمی معاہدے سے اس کا رکن ہونے کے باوجود نکل جائے گا۔

جی ٹوئنٹی سمٹ کے ایجنڈے میں آزاد اور منصفانہ تجارت کہاں؟

جی ٹوئنٹی اجلاس:کامیابی کے لیے چین کا تعاون کیوں ضروری؟

جرمنی امریکا کے خلاف ڈبلیو ٹی او میں مقدمہ دائر کر سکتا ہے

جی ٹوئنٹی کی اس سربراہی کانفرنس کے موقع پر اقتصادی عالمگیریت کے مخالفین اور بہت سی سماجی تنظیموں کی طرف سے ہیمبرگ میں کئی مقامات پر مظاہروں کے پروگرام بھی بنائے گئے ہیں۔ جزوی طور پر یہ مظاہرے اس ہفتے کے اوائل ہی سے شروع ہو گئے تھے۔

ان مظاہروں میں شرکاء کی طرف سے ترقی یافتہ اور امیر ممالک کی اقتصادی عالمگیریت کی پالیسی، سرمایہ دارانہ نظام اور تحفظ ماحول کے لیے ’ناکافی‘ کوششوں کی وجہ سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

G20 Gipfel in Hamburg | Donald Trump US-Präsident

صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کی ہیمبرگ ایئر پورٹ پر لی گئی تصویر

روئٹرز نے لکھا ہے کہ ہیمبرگ کے ایئر پورٹ پر اپنے خصوصی طیارے سے باہر نکلتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے، جن کے ساتھ ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ بھی تھیں، سیڑھیاں اترنے سے قبل طیارے سے باہر نکل پر کچھ توقف کیا اور وہاں موجود افراد کو دیکھ کر ہاتھ بھی ہلائے۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ جی ٹوئنٹی کی اس سمٹ کے دوران ٹرمپ کو کانفرنس کے دیگر شرکاء کی طرف سے تنقید اور ’کشیدگی کی حد تک‘ اختلاف رائے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس سمٹ کا ایک اور اہم موضوع عالمی تجارت اور تجارتی پالیسیاں بھی ہیں۔ اس حوالے سے بھی مظاہرین احتجاج کرنے کا پروگرام بنائے ہوئے ہیں۔ اس سمٹ کا باقاعدہ آغاز کل جمعے کے روز ہو گا اور ہیمبرگ شہر میں جمع مظاہرین، جن کی مجموعی تعداد مختلف اندازوں کے مطابق ایک لاکھ تک بھی ہو سکتی ہے، ٹرمپ اور دیگر سربراہان مملکت و حکومت کا ہیمبرگ آمد کے موقع پر اپنی طرف سے ایسے بینرز اور پلے کارڈز کے ساتھ استقبال کرنے کی تیاریاں کیے ہوئے ہیں، جن پر مثال کے طور پر ان رہنماؤں کی پالیسیوں سے اختلاف اور ان کے ممکنہ نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سخت الفاظ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے: ’’جہنم میں خوش آمدید!‘‘

مجموعی طور پر ہیمبرگ میں موجود ان ہزارہا مظاہرین نے جی ٹوئنٹی سمٹ کے شرکاء کے خلاف اپنے اس پورے احتجاج کو بھی ’ویلکم  ٹُو ہَیل‘ یا ’جہنم میں خوش آمدید‘ ہی کا نام دیا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار