امریکی صدرنے فلسطینیوں کی امداد کم کرنے کی دھمکی دے دی | حالات حاضرہ | DW | 03.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی صدرنے فلسطینیوں کی امداد کم کرنے کی دھمکی دے دی

ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر فلسطینی امن مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے تو امداد روک لی جائے گی۔ فلسطینی لیڈر محمود عباس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کے بعد مذاکرات میں شریک نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اگر فلسطینی امریکا کی جانب سے سالانہ بنیاد پر لاکھوں ڈالر وصول کرنے کے بعد اِس عمل کو عزت اور وقار نہیں دیتے تو پھر اسے بند کر دینا چاہیے۔ انہوں نے امدادی سلسلے میں تسلسل کو امن مذاکرات کے ساتھ جوڑنے کا واضح اشارہ بھی دیا ہے۔

یروشلم کے کسی بھی حصے سے ممکنہ اسرائیلی دستبرداری اب مشکل تر

اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے درجنوں فلسطینی زخمی، ایک ہلاک

امریکی فیصلہ: ایک سو برس بعد فلسطینیوں پر ایک اور کاری وار

نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گھر‘ قرار دے دیا

ٹرمپ کے مطابق فلسطینی قیادت اس وقت تعطلی کے شکار مذاکرات میں شریک ہونے پر بھی غور کرنے کو تیار نہیں ہیں اور جب تک وہ اس میں شرکت نہیں کریں گے تب تک اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کا معاہدہ کیسے طے پائے گا۔

چھ دسمبر کو امریکی صدر نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب فلسطینی لیڈرشپ بھی اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت یروشلم کو قرار دیتے ہیں۔

امریکی بیان پر فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ امریکی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہو گی۔ اس سے قبل فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کہہ چکے ہیں کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر کے امریکا ایک بااعتماد ثالث نہیں رہا ہے۔ فلسطینی لیڈر محمود عباس نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں امریکی جانبداری سامنے آ گئی ہے اور وہ اب واشنگٹن حکومت کی جانب سے امن مذاکرات کی کوششوں میں شریک نہیں ہوں گے۔

Frankreich Abbas bei Macron (Getty Images/AFP/F. Mori)

لسطینی لیڈر محمود عباس نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں امریکی جانبداری سامنے آ گئی ہے

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ منگل تین جنوری کے ٹویٹ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ محسوس کرتے ہیں کہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے منتقل کرنے کے اعلان سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی کوششیں جمود کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔ ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ امن مذاکرات کی کامیابی سے انجام کار فریقیین کے درمیان حتمی ڈیل چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد اپنے داماد جیرڈ کوشنر کو امن مذاکرات کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کا کہا تھا اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ایک سابق وکیل جیسن گرین بلاٹ کو مشرق وسطیٰ کے لیے وائٹ ہاؤس کا خصوصی مندوب بھی مقرر کر کے انہیں مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی ہدایت کی تھی۔ جیرڈ کوشنر اور جیسن گرین بلاٹ مذہباً یہودی ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:56
Now live
01:56 منٹ

اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے والی فلسطینی لڑکی سوشل میڈیا اسٹار

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار