امریکی جنگلاتی آگ: اوریگن میں ’بڑی تباہی‘ | حالات حاضرہ | DW | 13.09.2020

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی جنگلاتی آگ: اوریگن میں ’بڑی تباہی‘

امریکا کے مغربی ساحلی علاقوں میں لگی جنگلاتی آگ کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 30 سے بڑھ چکی ہے۔ ریاست اوریگن کے حکام کے مطابق درجنوں دیگر افراد لاپتہ بھی ہیں، جن کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

دوسری طرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک نے ایسی پوسٹ ہٹا دی ہیں جن میں اس آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی جا رہی تھیں۔

آگ بھجانے والا عملہ ہفتہ اور اتوار کی درمیان شب بھی امریکا کے مغربی ساحلی علاقوں میں لگی جنگلاتی آگ کو بجھانے کی کوششوں میں مصروف رہا۔ دوسری طرف اس آگ کے سبب ریاست کیلیفورنیا، اوریگن اور واشنگٹن میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 30 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ابھی تک درجنوں لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

اوریگن کی ریاستی گورنر کیٹ براؤن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریاستی ایمرجنسی حکام 'بڑی تعداد میں ہلاکتوں‘ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

ریاست کیلیفورنیا میں رواں برس کے شروع سے اب تک لگنے والی جنگلاتی آگ کے مختلف واقعات میں 13000 مربع کلومیٹر کا رقبہ جل چکا ہے۔ یہ رقبہ گزشتہ برس لگنے والی آگ کی نسبت 26 گنا بڑا ہے۔

USA Waldbrände Feuer

حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ابھی تک درجنوں لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

اسی طرح ریاست اوریگن میں 4,000 مربع کلومیٹر اور واشنگٹن میں 2,400 مربع کلومیٹر کے رقبے پر لگے جنگلات اس آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

ہزارہا لوگوں کی نقل مکانی

ان تین امریکی ریاستوں میں لگی آگ کے سبب بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ صرف ریاست اوریگن میں 40 ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے جبکہ کیلیفورنیا میں بھی ہزاروں لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے ہیں۔

آسٹریلیا میں جنگلاتی آگ اور سیلاب ساتھ ساتھ

دو ہزار سولہ تاریخ کا گرم ترین سال قرار

اس آگ کو بھجانے والے عملے کو یقین ہے کہ اختتام ہفتہ پر بہتر موسمی صورتحال کے سبب انہیں آگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ تاہم کچھ مقامات پر لگی آگ پر جن میں اوریگن کے جنوبی حصے میں لگی آگ بھی شامل ہے، بالکل بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔

غلط معلومات پر فیس بُک کا کریک ڈاؤن

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک نے ایسی غلط معلومات پر مبنی پوسٹس ہٹانا شروع کر دی ہیں جن میں ریاست اوریگن میں لگنے والی آگ کو انتہائی دائیں بازو کے گروپوں یا پھر انتہائی بائیں بازو کے گروپوں کی کارروائی قرار دیا جا رہا تھا۔ اس بات کی تصدیق فیس بُک کے ایک ترجمان نے بھی کی ہے۔

اوریگن کے ریاستی حکام اس طرح کی غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش میں ہیں کہ شدت پسند گروپوں نے یہ آگ جانتے بوجھتے لگائی۔

قبل ازیں فیس بُک نے انتباہ جاری کیا تھا کہ غلط معلومات پر مبنی پوسٹس کو ہٹا دیا جائے گا، تاہم اب اس نے یہ سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2020ء کے دوران آگ لگنے کے ان واقعات میں اضافے کی اصل وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔

ا ب ا / ع ب (اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے)