امریکی اور روسی بحری جنگی جہاز ٹکرانے سے بچ گئے | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی اور روسی بحری جنگی جہاز ٹکرانے سے بچ گئے

بحیرہ مشرقی چین میں امریکی اور روسی جنگی بحری جہاز ٹکرانے سے بال بال بچ گئے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک نے اس واقعے کے لیے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے روسی پیسیفک فلیٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ میزائل گائیڈڈ کروزر یو ایس ایس چانسلر ویل اچانک ہی روس کے اینٹی سب میرین جہاز ایڈمرل ونوگرادوف کے انتہائی قریب پہنچ گیا۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز نے سمندر کے پانیوں میں اچانک ہی موڑ کاٹی، جس کی وجہ سے وہ روسی بحری جہاز کے پچاس میٹر قریب تک پہنچ گیا۔ تاہم دونوں جہاز حادثے سے بچ گئے۔

روسی حکام نے بتایا ہے کہ خطرناک صورتحال میں روسی جہاز نے ہنگامی موڑ کاٹا تاکہ حادثے کو نظر انداز کیا جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ روس نے امریکی کروزر کمانڈر کو احتجاجی پیغام ارسال کر دیا ہے۔ روسی بحریہ نے اسے ایک اشعال انگیز واقعہ قرار دیا ہے۔ تاہم امریکی ساتویں فلیٹ نے روسی الزامات کو مسترد کر دیا۔

امریکی بحریہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے کے دن ایک ہیلی کاپٹر چانسلرز ویل پر لینڈنگ کر رہا تھا جب یہ واقعہ رونما ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے اور چلتے ہوئے شپ پر ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے وقت شپ کی رفتار کو ایک دم کم نہیں کیا جا سکتا ورنہ حادثے کا خطرہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب روسی شپ انتہائی قریب پہنچ گیا تو اس ہیلی کاپٹر کو اپنی لینڈنگ منسوخ کرنا پڑی۔ اس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ نیوی گیشن کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق جو شپ اوورٹیک کر رہا ہوتا ہے، حادثے کی صورت میں ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔

امریکی بحریہ کے مطابق روسی بحری جہاز اچانک قریب پہنچا، جس کی وجہ سے امریکی جنگی بحری جہاز اور اس میں موجود عملے کو خطرات لاحق ہو گئے۔ ایک بیان کے مطابق، ''ہم سمجھتے ہیں کہ اس تناظر میں روس کے یہ اعمال غیر محفوظ اور غیر پیشہ وارانہ تھے‘‘۔ عبوری وزیر دفاع پیٹرک شاناہان نے کہا ہے کہ واشنگٹن کا منصوبہ ہے کہ اس معاملے پر ماسکو حکومت کو باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا جائے اور اس پر جامع گفتگو کی جائے۔

واضح رہے کہ بحیرہ مشرقی چین اور بحیرہ جنوبی چین میں امریکی اور چینی بحری جہازوں کے مابین کشیدگی دیکھی جا چکی ہے۔ ان سمندروں پر واقع چھوٹے چھوٹے مگر وسائل سے مالا مال جزائر پر کئی ممالک اپنا حق جتاتے ہیں۔ امریکا اور روس کے بحری جہازوں کے مابین کشیدگی کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے، جب چینی صدر شی جن پنگ روس کا دورہ کر رہے ہیں۔

ع ب / ع س / خبر رساں ادارے

DW.COM